Al-Risala · May 1979 · page 18

یہ اپنی کمزوری کا اعلان ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۸

یہ اپنی کمزوری کا اعلان ہے

”کارواں“ ایک پندرہ روزہ انگریزی میگزین ہے۔ اس میں ایک انخامی کالم رہتا ہے جس کا عنوان ہے : میری زندگی میں نقطۂ انقلاب اس عنوان کے تحت اس کی جون اول ۱۹۷۷ء کی اشاعت میں جو واقعہ درج ہے اس کے نیچے محمد اکل کا نام ہے (پتہ درج نہیں ہے)

موصوف لکھتے ہیں کہ میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوا۔ میری دادی بہت مذہبی تھیں۔ وہ ہم کو بتاتی رہتی تھیں کہ آدمی کی نجات صرف کلمۂ توحید سے ہوگی۔ ۱۰ سال کی عمر میں جب کہ میں چھٹی کلاس میں پڑھتا تھا، میرے اکثر دوست ہندو یا عیسائی تھے۔ یہ احساس مجھے بری طرح ستاتا تھا کہ مرنے کے بعد یہ میرے دوست مجھ سے چھوٹ جائیں گے۔ ”ایسی جنت میں جانے سے کیا فائدہ جہاں سبرامنیم اور زیویر میرے ساتھ کھیلنے کے لئے موجود نہ ہوں۔ ایسی جنت سے تو جہنّم اچھی“۔ میں عرصہ تک پریشان رہا یہاں تک کہ ایک ”تدبیر میرے ذہن میں آئی“۔ میں کلمہ پڑھوں گا اور دوستوں سے کہوں گا کہ تم بھی اس کو زبان سے دہراؤ “۔ اور پھر خدا ان کو بھی جنت میں پہنچا دے گا۔ ایک دن جب کہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ باغ میں تھا۔ میں نے اچانک کہا: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ سبرامنیم نے یہ سن کر کہا یہ کیا۔ میں نے کہا یہ تمھارے لئے چیلنج ہے۔ کیا تم ان الفاظ کو اپنی زبان سے دہرا سکتے ہو۔ ”دہرا دوں تو کیا انعام دو گے؟ “ میں نے کہا ایک نگین نسل۔ سبرا نیم نے کلمہ کے الفاظ دہرا دیئے۔ اس کے بعد میں نے یہی بات زیویر سے کہی۔

زیویر کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے کہا۔ میری ماں مجھے کو بتاتی ہے کہ یسوع مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ جو ان کا انکار کرے گا وہ سیدھا جہنم میں جائے گا۔ زیویر کلمہ کے الفاظ کو نہ دہر اسکا۔

اب میں سخت مشکل میں پڑ گیا۔ اس وقت سبرانیم بولا۔ ”میرے باپ کا کہنا ہے کہ ہندو، مسلم، عیسائی اور سکھ میں کوئی فرق نہیں۔ اصل یہ ہے کہ آدمی آدمی بنے۔ میرا باپ کبھی پوجا نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے اصل عبادت خانہ آدمی کا دل ہے “۔ خدا یہ نہیں دیکھے گا کہ تم ہندو ہو یا مسلمان یا عیسائی۔ وہ تو صرف یہ دیکھے گا کہ تم اچھے ہو یا برے۔ اسی دن میرے سر سے بہت بڑا بوجھ اتر گیا ۔ میں نے سبرا نیم اور زیویر دونوں کو ایک ایک لال پنسل دی۔ ہم سب بہت خوش ہوئے۔ اس سنہری سہ پہر کو بالآخر ہم نے زندگی کی معنویت کو پا لیا۔ اب میں بڑا ہو چکا ہوں مگر سبرا نیم کے باپ کے الفاظ مجھے بھولتے نہیں۔ ان الفاظ پر میں جتنا زیادہ سوچتا ہوں، ان کی ابدی سچائی کا مجھ کو یقین ہوتا چلا جاتا ہے۔ “ اوپر ہم نے کہانی کا خلاصہ درج کر دیا ہے۔ اس کے اندر جو مصنوعی پن ہے، اس سے یہ ظاہر ہے کہ یہ ایک گھڑا ہوا قصہ ہے نہ کہ کوئی سچا واقعہ۔ بظاہر اس کا مقصد یہ ہے کہ سامی مذاہب کے اوپر آریائی مذاہب کی فوقیت ثابت کی جائے مختلف مذاہب کے درمیان تقابل کسی بھی شخص کا ایک علمی حق ہے۔ مگر اس قصہ میں اسلام کی تعلیم کو واضح طور پر بگاڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ جب کہ تقابل متعلقہ مذاہب کی حقیقی تعلیمات کے درمیان ہونا چاہئے نہ کہ خود ساختہ تعلیمات کے درمیان۔ تقابل کے لئے فرضی قصوں کا سہارا لینا اپنی کمزوری کا اعلان ہے نہ کہ دوسرے کی کمزوری کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page