یہ اپنی کمزوری کا اعلان ہے
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۹
عمل وہی ہے جس میں دنیوی فائدہ اور شہرت کی طلب نہ ہو ابو داؤد اور نسائی نے ابو امامہ ی اللہ عنہ سے ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ارایت رجلا غزا يلتمس الاجر والذكر ماله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا شيئ له فاعادها ثلاث مرات ۔ یقول رسول الله صلى الله عليه وسلم لا شيئ له ۔ ثم قال ان الله لا يقبل من العمل الا ما كان خالصا و ابتغى به وجهه امد اور خود ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا ایک شخص جہاد کرتا ہے اور اس کے ذریعہ سے وہ دنیوی فائدہ اور شہرت چاہتا ہے ، اس کے لئے کیا ہے۔ آپ نے فرمایا اس کے لئے کچھ نہیں ہے۔ یہی سوال اس نے تین بار کیا اور ہر بار آپ نے یہی فرمایا کہ اس کے لئے کچھ نہیں ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لئے اور اس کی رضا کے لئے ہو کے درمیان امید اور خوف کے درمیان ابو نعیم نے نقل کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لو نادی مناد من السماء یا ايها الناس انکم داخلون الجنة كلكم الا رجلا واحدا الخفت ان اكون انا هو۔ و لو نادی مناد ايها الناس انکم داخلون النار الا رجلا واحدا لرجوت ان اكون انا هو (حلية الاولیاء جلد اول)
اگر آسمان سے کوئی پکارنے والا پکارے کہ اے لوگو تم سب کے سب جنت میں جاؤ گے سوا ایک آدمی کے ، تو مجھے ڈر ہوگا کہ میں ہی وہ آدمی ہوں ۔ اور اگر پکارنے والا پکارے کہ اے لوگو تم سب کے سب جہنم میں جاؤ گے سوا ایک آدمی کے ، تو مجھے امید ہوگی کہ میں ہی وہ آدمی ہوں ۔
لوگوں کو معاف کر دینا بھی صدقہ ہے ابو عبس بن جبر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز لوگوں کو ابھارا کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے صدقہ دیں۔ لوگ اپنی وسعت کے مطابق لے آئے۔ آپ کے اصحاب میں ایک علیہ بن زید بن حارثہ انصاری رض تھے ۔ ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ وہ رات کو اٹھے۔ نماز پڑھی اور رو کر اللہ تعالیٰ سے کہا: اللهم انه ليس عندى ما اتصدق به ۔ اللهم انی اتصدق بعرضی علی من ناله من خلقک صبج که رگ حمید پر رسال الاصل الشعل وسان زفاں خدایا ! میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس کو صدقہ کروں ۔ خدایا ! آپ کے بندوں میں سے جس کسی نے میری عزت لی ہو تو میں اس عزت کو صدقہ کرتا ہوں (معاف کرتا ہوں ) صبح کو لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: این المتصدق ھذہ اللیلۃ (آج کی رات صدقہ کرنے والا کہاں ہے) مگر کوئی نہ اٹھا ۔ آپ نے دوبارہ یہی سوال کیا ، مگر کوئی نہ اٹھا ۔ تیسری بار سوال کرنے کے بعد علبہ بن زید اٹھے۔ آپ نے فرمایا:
البشر، فو الذی نفسی بیدہ ، لقد کتبت فی الزکاۃ ریشہ دواند تاری باداباد کلمات بند جگر بدانید تم کو خوش خبری ہو ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری