تبدیلی مذہب پر پابندی لگانے والا قانون
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۴۴
اُخروی تقاضوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ خدا کی مرضی کے لئے سرگرم ہونے سے زیادہ اس کو یہ بات محبوب ہے کہ وہ اپنے ذوق کی تسکین اور اپنی عادتوں کی تکمیل میں لگا رہے ۔ وہ اپنی زندگی کے مقررہ نقشہ کو نہیں بدل سکتا، خواہ اس کی وجہ سے اس کی عبادتیں ناقص ہو جائیں، خواہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ٹھیک ٹھیک انجام نہ دے سکے، خواہ اس کو بالآخر اپنی بے حسی اور ناکردگی کو چھپانے کے لئے جھوٹے عذرات کا سہارا لینا پڑے۔
یہ شکایت مجھے صرف ان لوگوں سے نہیں ہے جو ملحدانہ ماحول میں پرورش پا کر نکلے ہیں۔ وہ لوگ جو ”دیندار“ کہے جاتے ہیں، جن کی طرف اسلامی مسائل معلوم کرنے کے لئے رجوع کیا جاتا ہے، ان کا حال بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے چند دن پہلے میں ایک راستے سے گزر رہا تھا کہ ایک پر جوش آواز میرے کان میں آئی۔ ’’ہر آدمی کی زبردست خواہش ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کو پھلتا پھولتا دیکھے اس سے دل کو بڑی تسکین ہوتی ہے‘‘ دیکھا تو ایک بزرگ ایک دکان میں بیٹھے تقریر کر رہے تھے۔ چہرے پر داڑھی ان کے دین دار ہونے کی علامت تھی اور زبان اور وضع قطع بتا رہی تھی کہ یقیناً کوئی عالم ہوں گے۔ میں نہیں کہتا کہ یہ کوئی نا جائز خواہش ہے۔ مگر جب میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے اندر یہ تمنا تو بہت زیادہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو پھلتا پھولتا دیکھیں مگر اسلام کو پھلتا پھولتا دیکھنے کی تڑپ ان میں باقی نہیں ہے، تو یہ جائز خواہش بھی مجھے ایک جرم معلوم ہونے لگتی ہے۔ ایک بزرگ کو میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ وہ ایک نوجوان کو اس بات پر تنبیہ کر رہے تھے کہ وہ نماز کے بعد دعا کے لئے نہیں ٹھہرتا بلکہ سلام پھیرنے کے بعد فوراً اُٹھ کر چلا جاتا ہے۔ بے شک یہ نوجوان کی غلطی تھی۔ مگر میں جانتا ہوں کہ خود ان بزرگ کا یہ حال ہے کہ صبح کی اور دوپہر کی نیند اکثر نہیں فجر اور ظہر کی نمازوں میں وقت پر مسجد پہنچنے نہیں دیتی۔ شام کی گفتگو میں وہ کبھی کبھی اتنا مصروف ہوتے ہیں کہ مسجد اس وقت پہنچتے ہیں جب امام ایک رکعت پوری کر چکا ہوتا ہے۔ آپ کو ایسے کتنے عالم دین ملیں گے جن کے سامنے اگر و تنک منکم امۃ يدعون إلى الخير کا ترجمہ ’’تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے‘‘ کر دیا جائے تو وہ اس پر دو گھنٹے بحث کریں گے کہ یہاں من ” تبعيضيه ‘‘ نہیں بلکہ "بیانیہ" ہے ۔ یعنی آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ’’ تم کو ایسا گروہ بننا چاہئے جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائے‘‘۔ (نہ یہ کہ تم میں سے ۔ ۔ ۔ ) مگر ان حضرات کے ساتھ آپ مہینوں اور سالوں زندگی گزاریں، آپ یہ نہ دیکھیں گے کہ ان کے اندر فی الواقع دعوت الی الخیر کی کوئی واقعی تڑپ پائی جاتی ہے۔ وہ آیت میں عموم ثابت کرنے کے لئے قابلیت صرف کریں گے ۔ مگر اس عموم کو اپنی ذات تک پہنچانے کی ضرورت نہیں سمجھیں گے۔ صلوٰۃ وسطی کا ترجمہ اگر ’’بیچ کی نماز‘‘ یا ’’عصر کی نماز‘‘ کر دیجئے تو وہ آپ کے اوپر جہالت کا فتویٰ صادر کر دیں گے۔ وہ اصرار کریں گے کہ قرآن میں جو صلوٰۃ وسطی کا لفظ آیا ہے اس سے مراد ’’بہترین نماز‘‘ ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس سے مراد کوئی ایک نماز نہیں بلکہ ساری نمازیں ہیں۔ مگر ان کی اپنی نمازوں کو دیکھئے تو آپ یہ نہ پائیں گے کہ وہ اپنی نماز کو بہتر‘‘ بنانے کی جد و جہد کر رہے ہیں۔ دوسروں پر تبلیغ کرتے ہوئے وہ نہایت جوش کے ساتھ اس واقعہ کو بیان کریں گے کہ :
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر غزوہ بدر کے لئے نکلے، دوسری طرف مشرکین کا لشکر تھا۔ آپ نے فرمایا‘‘