Al-Risala · May 1979 · page 33

تبدیلی مذہب پر پابندی لگانے والا قانون

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۳

کوئی سننے والا ہے جوسنے ؟

دفتر کے صحن میں دوڑنے کی آواز نے مجھے چونکادیا، دیکھا تو ہاکر ہاتھ میں اخبار لئے بھاگا چلا آرہا ہے۔ یہ اس کا روزانہ کا معمول ہے۔ صبح کا اخبار اول ترین وقت میں تمام خریداروں کے پاس پہنچانے کا اس کو اتنا خیال ہے کہ وہ دوڑتا ہوا چلتا ہے۔ اور اگر اخبار لینے کے بعد اس سے کوئی سوال کیا جائے تو وہ ٹھہر کر اس کا جواب نہیں دے گا بلکہ واپس بھاگتے ہوئے کہتا چلا جائے گا۔ وہ دوڑ رہا ہے تاکہ وہ بھاگتے ہوئے وقت کو پکڑ لے، تاکہ وہ وقت کے پیچھے نہ رہ جائے۔ یہ دنیا کے لئے انسان کی دوڑ دھوپ کی ایک مثال ہے جس کو آپ اپنے قریب ترین دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اگر آپ کا حال یہ ہو کہ آپ صبح کی چائے“ میں طویل وقت صرف کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں کے درمیان بے تکلف باتیں کرتے ہوئے نہایت اطمینان کے ساتھ اخبار کی آمد کا انتظار کر رہے ہوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ آخرت کے اقرار میں اتنے سنجیدہ بھی نہیں ہیں جتنا وہ شخص اپنے پیشے میں سنجیدہ ہے جس کا آپ انتظار کر رہے ہیں۔ آپ مسلمان ہیں، آپ اسلام کے داعی ہیں، لیکن اگر صورت حال یہ ہو تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا مسلمان ہونا آپ کی حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ آپ کی اسلامی دعوت محض اس سے ایک روایتی وابستگی کا نتیجہ ہے یا زیادہ سے زیادہ ایک ذہنی موضوع ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ آخرت کے لئے اس سے زیادہ بیتاب ہوتے جتنا ایک دنیا پرست دنیوی فائدوں کے لئے بے تاب ہوتا ہے۔ آخرت کی طلب میں آپ اس سے زیادہ تیز دوڑنے کی کوشش کرتے جتنا کوئی شخص اپنی ملازمت اور کاروبار کے لئے دوڑتا ہے، اپنے وقت اور اپنی صلاحیتوں کے استعمال میں آپ اس سے زیادہ مستعد ہوتے جتنا کہ ایک اخبار بیچنے والا اپنے کام میں نظر آتا ہے۔

اسلام آدمی کو زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کے لئے بلاتا ہے۔ جس کے دل میں یہ بات اتر گئی ہو، کیسے ممکن ہے کہ وہ شخص غیر متعلق کام میں یا کمتر درجے کے مقاصد میں اپنا وقت ضائع کرے ، اسلام ہم کو موجودہ زندگی کی غفلتوں کے بدلے بے پناہ عذاب سے ڈراتا ہے۔ جو شخص فی الواقع اس خبر پر ایمان لایا ہو کیسے ممکن ہے کہ آپ اس کو بے فکری کے ساتھ قہقہہ لگاتا ہوا پائیں۔ اسلام کہتا ہے کہ تمھارے اوپر ایک عظیم خدا ہے جو ہر وقت تمھیں دیکھ رہا ہے۔ جو شخص اس حقیقت کو مانتا ہو۔ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایک لمحے کے لئے بھی ایسے مشاغل میں مصروف ہونا پسند کرے جس کی خدائے ذوالجلال کے نزدیک کوئی قیمت نہ ہو، اسلام کہتا ہے کہ تمھاری زندگی بالکل غیر یقینی ہے، کسی بھی وقت موت کے فرشتے تمھاری گرفتاری کے لئے پہنچ سکتے ہیں۔ جو شخص حقیقی معنوں میں اس انتہائی نازک صورت حال کا احساس رکھتا ہو، کیسے ممکن ہے کہ وہ روزانہ اپنے اوقات کا ایک حصہ ایسے مشاغل میں صرف کرتا رہے جس کا طلب آخرت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا ہو اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ ایک کام کو مہینوں اور سالوں کرتا رہے اور اس کو احساس نہ ہو کہ وہ ایک غلطی کو دہرا رہا ہے ۔ کیا یہی وہ تصویریں ہیں جو خدا اور آخرت پر ایمان لانے کے بعد بنتی ہیں ۔ یہ فقرہ اکثر ایک درد ناک آہ کے ساتھ میری زبان سے اس وقت نکل جاتا ہے جب میں اپنے گرد و پیش کے لوگوں کو دیکھتا ہوں۔ انسان کے لئے اس کے معاشی مفادات

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page