تبدیلی مذہب پر پابندی لگانے والا قانون
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۶
دور میں شیطان نے چند ایسے الفاظ موہیا کردئے ہیں جن کے ذریعہ کسی بھی صحیح ترین تنقید کو نہایت آسانی سے رد کیا جاسکتا ہے ـــــــــ "یہ شدت پسندی ہے۔ " یہ تمھارا انتہاپسندانہ زوی ہے۔ " "تم ایک رُخنے انداز میں سوچتے ہو۔ " "تم اعتدال کے راستے سے ہٹ گئے ہو" وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ آپ کے پاس ان باتوں کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔ کیوں کہ خدا کے رسول پہلے ہی اعلان فرما چکے ہیں کہ الدّینُ يُسْرُ !
مگر یاد رکھئے آج آپ ایک نام نہاد کو ان جوابات سے خاموش کر سکتے ہیں۔ مگر خدا کے یہاں اس قسم کے جوابات ہرگز کافی نہ ہوں گے۔ وہاں تو آپ کی پوری زندگی کا بخیہ ادھیڑ کر رکھ دیا جائے گا اور کہا جائے گا تم خود دیکھ لو کہ دنیا کی زندگی میں تم جن مشاغل میں مصروف تھے ان کے پیچھے کیا کیا محرکات کام کر رہے تھے۔
میرے ایک ساتھی نے ایک مرتبہ بہت عمدہ بات کہی ـــــــــ "آخرت میں خدا کا انعام اسی کو ملے گا جس نے دنیا میں خدا کے انعام کو پالیا ہو۔ " اس بات پر غور کیجئے تو اس میں نصیحت کے بہت سے پہلو چھپے ہوئے ہیں۔ آپ اپنے کو مسلمان کہتے ہیں، آپ دین حق کے علم بردار ہیں، یہ دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ آپ خدا کی جنت کے امیدوار ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ انعام "جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا"، وہ محض دعوؤں اور خوش گمانیوں کے ذریعہ تو کسی کو نہیں مل سکتا۔ یہ انعام صرف اس کے لئے ہے جس نے دنیا میں اپنی آخرت طلبی کو نمایاں طور پر ثابت کر دیا ہو، جس نے اپنے مسلسل رویے سے یہ دکھا دیا ہو کہ دوسرے انسانوں کے مقابلے میں وہ اس کے پانے کا استحقاق رکھتا ہے۔ جب دوسرے لوگ دنیا کی لذتوں میں کھوئے ہوئے تھے تو وہ خدا کے انعام کے تصور میں اتنا محو ہوا کہ اسے دنیا کی لذتیں بھول گئیں۔ جب دوسرے لوگ اپنے ذوق کو تسکین دینے میں مصروف تھے تو وہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے تڑپ رہا تھا، جب دوسرے لوگ سوتے تھے تو وہ جاگتا تھا، جب دوسرے آرام کرتے تھے تو وہ تکلیف اٹھاتا تھا، جب دوسرے لوگ ہنسی اور تفریح میں دل بہلا رہے تھے تو وہ آنسو بہا رہا ہوتا تھا۔ مختصر یہ کہ جب دوسرے لوگ دنیا کی زندگی میں اپنے آپ کو گم کئے ہوئے تھے تو وہ آخرت کی زندگی کے لئے اپنا ایک ایک لمحہ صرف کر رہا تھا۔
جنت کا مستحق ہونا دوسرے لفظوں میں آخرت میں کسی کا ممتاز مقام حاصل کرنا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں صرف وہی شخص کسی ممتاز مقام کو پاتا ہے جس نے اس کے لئے بے پناہ جدوجہد کی۔ ٹھیک اسی طرح آخرت کے درجات عالیہ بھی ہی لوگ پائیں گے جنھوں نے اپنے آپ کو اس کے لیے کھپا دیا ہو۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اپنی سطحی زندگی کے نتیجہ میں وہ آخرت کے انعامات کو حاصل کر لے گا تو یہ محض خوش فہمی ہے۔ ٹھیک ویسی ہی خوش فہمی جیسے کوئی شخص سمجھ لے کہ وہ بستر پر لیٹے لیٹے وہ مقام حاصل کر سکتا ہے جب کہ دنیا اسے " فاتح ایورسٹ" کے نام سے پکارے اور اس کو وہ اعزازات نصیب ہوں جو ملیریا اور زمین زنگ کو لمبی جدوجہد کے بعد حاصل ہوئے۔
۱۹۸۴ء میں انگلینڈ کے دیہات میں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ پیدائش کے وقت وہ اتنا کمزور تھا کہ دائیوں نے اس کی زندگی کی طرف سے مایوسی ظاہر کی۔ اس کا کمزور سر حفاظت کی خاطر چمڑے کی پٹی سے لپیٹ دیا گیا۔ اس کے بعد جب وہ بڑا ہوکر ہائی اسکول پہنچا تو وہ اپنے ساتھیوں میں سب سے پیچھے تھا۔ مگر یہی کمزور لڑکا جب پچاسی سال کی عمر میں مرا تو وہ نیوٹن کے