تبدیلی مذہب پر پابندی لگانے والا قانون
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۷
پر عظمت نام سے مشہور ہو چکا تھا۔ نہ صرف انگلینڈ میں اس کو بلند ترین اعزازات حاصل ہوئے بلکہ ساری دنیا میں اپنی ذہنی عظمت کا اس نے ایسا سکہ بٹھایا کہ اس کے مرنے کے سو سال بعد جب دور بینی مطالعہ میں سائنس دانوں نے دیکھا کہ سیارہ یورے نس نیوٹن کے قانون تجاذب کے بتائے ہوئے راستے سے کچھ ہٹا ہوا ہے تو انھوں نے نیوٹن کے اصول کی غلطی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کوئی اور سیارہ ہونا چاہئے جس کی کشش سے اس کی رفتار میں یہ فرق پیدا ہوا ہے۔
نیوٹن کو یہ عظمت کیوں کر حاصل ہوئی اس کا جواب خود اس کی زبان سے سنئے ۔ ایک مرتبہ اس کے کارناموں کی تعریف کی گئی تو اس نے کہا:
"I had no special sagacity ------- only the power of patient thought". یعنی میرے اندر کوئی خصوصی قابلیت نہیں ہے۔ مجھے جو کچھ ملا وہ صرف اس وجہ سے ملا کہ میں نے کائنات کو سمجھنے کے لئے انتھک جد و جہد سے کام لیا ہے۔ اپنی مشہور کتاب (Principia) کی تیاری کے دوران میں اٹھارہ مہینے تک اس کا یہ حال تھا کہ وہ گھنٹوں بے حس و حرکت پڑا سو چتا رہتا۔ اس کے بعد یکایک اپنی ڈسک پر جاکر کھڑا ہو جاتا اور گھنٹوں مسلسل لکھتا رہتا۔ اس کو اتنا بھی ہوش نہیں رہتا تھا کہ قریب کی کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھ جائے۔ اس کے سکریٹری کی رپورٹ ہے کہ اس دوران میں بہت کم ایسا ہوا کہ وہ دو بجے سے پہلے بستر پر گیا ہو اور بعض اوقات تو پانچ اور چھ بج جاتے تھے ۔ کھانا بھی وہ اکثر بھول جاتا تھا۔ اس کی زندگی کی ضروریات بہت محدود تھیں ۔ ایک مرتبہ اس سے پوچھا گیا کہ تم سگریٹ کیوں نہیں پیتے، اس نے جواب دیا:
"Because I do not want to aquire any new necessities". یعنی میں سگریٹ اس لئے نہیں پیتا کہ اس کی وجہ سے میری ضروریات زندگی میں خواہ مخواہ ایک نئی ضرورت کا اضافہ ہو جائے گا۔ ولیم ہرشل (William Harschell) ایک جرمن سائنس داں گزرا ہے۔ اس نے فلکیات کے مطالعہ میں انسان کے علم کو بہت آگے بڑھایا۔ اس کا حال یہ تھا کہ معاشی تنگی کی وجہ سے اسکول کے بعد وہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور ایک ملازمت کر لی۔ لیکن صحت کی خرابی کی وجہ سے انیس سال کی عمر میں یہ ملازمت بھی چھوڑنی پڑی۔ اس کے بعد اس نے اپنے خاندانی پیشے کو اختیار کیا اور وائلن بجانے لگا۔ اسی دوران میں اس کو فلکیات کے موضوع پر ایک کتاب ملی۔ اس کتاب کو اس نے بہت غور سے پڑھا۔ اس کے بعد ہر شل کو ستاروں کے مطالعہ سے گہری دل چسپی پیدا ہو گئی۔ اس کا یہ شوق اتنا بڑھا کہ کبھی کبھی رات کے وقت جب اس کی ٹولی ساز و نغمہ میں مصروف ہوتی تھی وہ مجلس چھوڑ کر تھوڑی دیر کے لئے باہر نکل جاتا تا کہ آسمان پر جگمگاتے ہوئے ستاروں کی ایک جھلک دیکھ آئے۔
ستاروں کے مطالعہ کے لئے دوربین ضروری تھی۔ مگر یہ اٹھارھویں صدی کا زمانہ تھا جب کہ دوربین ابھی جلد ہی ایجاد ہوئی تھی اور نہ صرف یہ کہ ناقص تھی بلکہ اس کا ملنا بھی آسان نہیں تھا۔ ہرشل نے خود اپنی دوربین بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے متعلق فنی واقفیت حاصل کرنے کے لئے اس نے ریاضی پڑھنی شروع کی اور لمبی محنت کے بعد خود اپنے ہاتھ سے دوربین