Al-Risala · May 1979 · page 38

تبدیلی مذہب پر پابندی لگانے والا قانون

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۳۸

تیار کی ۔ ظاہر ہے کہ اس کی پہلی دوربین ابھی بہت ناقص تھی۔ مگر وہ ہمت نہ ہارا۔ دوربین کو ترقی دینے اور اس کو بہتر بنانے میں اس کا انہماک اتنا بڑھا کہ اس کا پورا گھر دوربین کا ایک کارخانہ بن گیا۔ اس زمانے میں ہسٹل کی مشغولیت کا یہ حال تھا کہ وہ کھانے کے لئے بھی اپنی ورکشاپ سے نہیں نکلتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی بہن کو اکثر اس طرح اسے کھانے کے لئے آمادہ کرنا پڑتا کہ وہ اپنے کام میں لگا رہتا اور بہن اس کے پہلو میں کھڑی ہوئی اس کے منہ میں لقمہ ڈالتی جاتی۔ صاف راتوں میں جب کہ آسمان پر بادل نہیں ہوتے تھے، بہت کم ایسا ہوتا کہ ہرشل بستر کے اوپر نظر آئے۔ ایسی راتوں کا بہترین مصرف اس کے نزدیک یہ تھا کہ اس کو ستاروں کا مشاہدہ کرنے میں بسر کرے۔ اس کی انھی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ اس کو تاریخ میں وہ مقام حاصل ہوا جس کو ایک مصنف نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے:

"...he had loped farther into space than any other eye had yet seen". یعنی اس نے کائنات میں اتنی دور تک دیکھا جتنا اس سے پہلے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا تھا۔

نومبر ۱۹۵۱ء کی ایک تاریخ کو جب ایک یوروپین ڈاکٹر کے کمرے میں اس کا ملازم داخل ہوا تو ڈاکٹر اور اس کے دو ساتھی اپنی کرسیوں سے گر کر فرش پر اوندھے منہ بے ہوش پڑے ہوئے تھے۔ ملازم نے سمجھا کہ شاید ان لوگوں نے کوئی تیز قسم کی شراب پی لی ہے۔ اس نے ان کے کپڑے درست کئے اور خاموشی کے ساتھ باہر چلا گیا۔ مگر حقیقت کچھ اور تھی۔ یہ در اصل جیمز سمپسن اور اس کے دو اسسٹنٹ تھے جنہوں نے پہلی بار کلورو فارم کے اثرات کا تجربہ کرنے کے لئے اس کو سانس کے ذریعہ اپنے اندر داخل کر لیا تھا۔ سمپسن ایک دیہاتی نانبائی کے سات لڑکوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ چار سال کی عمر میں اس نے دیہات کے اسکول میں تعلیم شروع کی اور اس میں اتنی دلچسپی اور توجہ دکھائی کہ اس کا باپ اور چھ بھائی اس پر راضی ہو گئے کہ نہایت ضروری مصارف پر قناعت کر کے اس کو اعلیٰ تعلیم کے لئے شہر بھیجیں۔ اس طرح وہ ایڈنبرا یونیورسٹی پہنچا۔ اسی نانبائی کے لڑکے کے سراس بات کا سہرا ہے کہ اس نے آپریشن کے موقع پر کلورو فارم کا استعمال دریافت کر کے انسانیت کو ایک طویل اور جانکاہ مصیبت سے نجات دی ۔ اس انسان کو وہ چیز دی جس کو ڈاکٹر جان براؤن نے ان لفظوں میں ادا کیا ہے :

"...one of God's best gifts to his suffering children."

یعنی دکھی انسانوں کے نام خدا کے تحفوں میں سے ایک بہترین تحفہ ۔ مگر سمپسن یہ تاریخی کام صرف اس وقت کر سکا جبکہ اس کی تحقیق میں اس نے اپنے آپ کو پوری طرح لگا دیا اور اس کے لئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ یہ ان لوگوں میں سے صرف چند کا ذکر ہے جنہوں نے دنیا میں عزت کا مقام حاصل کیا۔ آپ اس طرح کے بہت سے واقعات کو کتابوں میں پڑھ سکتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جنت دنیوی میں صرف وہ لوگ داخل ہو سکے جنہوں نے بے پناہ مشقت اٹھائی ۔ جنہوں نے اپنی ساری صلاحیتوں کو اس کے پیچھے جھونک دیا۔ دنیا اپنی پشت پر چلنے والے کروڑوں اور اربوں انسانوں میں سے صرف ان تھوڑے سے لوگوں کو عزت اور سربلندی کا مقام دینے کے لئے منتخب کرتی ہے جو اس کے لئے اپنے آپ کو فنا کر دیتے ہیں، جو اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر دیتے ہیں پھر خدا کی جنت جو اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے، کس قدر

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page