اقامت دین کے بارے میں
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۴۰
اقامت دین کے بارے میں
قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں ارشاد ہوا ہے کہ جو دین اللہ دوسرے نبیوں کو دیا تھا وہی دین تم کو بھی دیا گیا ہے ۔ اس دین کو قائم رکھو، اس میں متفرق نہ ہو (شوریٰ) اس آیت کی تفسیر تمام مفسرین یہ کرتے ہیں کہ اس میں دین کے وہ اساسی احکام مراد ہیں جو تمام نبیوں کے یہاں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں۔ اس میں شرائع اور منہاج مراد نہیں ہیں۔ کیوں کہ قرآن کی صراحت کے مطابق ان میں مختلف نبیوں کے درمیان فرق پایا جاتا ہے (مائدہ ۴۸) شرائع اور منہاج جب مختلف ہوں تو ان کی متحدہ پیروی ممکن نہیں، متحدہ تعلیمات ہی کی متحدہ پیروی کی جاسکتی ہے۔ اس لئے اس آیت میں حکم اقامت کا اطلاق اساسی تعلیمات پر ہوگا نہ کہ تفصیلی تعلیمات پر۔ اس آیت کا منشا یہ ہے کہ تفصیلی احکام میں توسع اور حالات کی رعایت کا طریقہ اختیار کیا جائے اور مستقل زور اور تاکید صرف متفق علیہ باتوں پر دیا جائے۔ اس طرح ملت کے اندر حقیقی دینی فضا پیدا ہوگی۔ دین کے وہ ذیلی یا تفصیلی امور جن میں زمانہ اور حالات کے اعتبار سے فرق ہوتا رہتا ہے ، ان کو اگر مستقل تاکید کی بنیاد بنایا گیا تو ملت کے اندر تفریق وانتشار ظہور میں آئے گا اور دین کے نام پر ایک ایسی فضا پیدا ہوگی جو دین کے لئے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے (تفصیل کے لئے : تعبیر کی غلطی ، الإسلام)
موجودہ زمانہ میں کچھ لوگوں نے اس آیت کی یہ تفسیر کی کہ اقامت دین کے حکم کا مطلب یہ ہے کہ سارے اسلامی قوانین کو بحیثیت ایک مکمل نظام کے جاری و نافذ کیا جائے۔ اب چوں کہ مکمل قانون کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی ادارہ تھا، اس تفسیر کے مطابق اقامت دین کا پہلا کام یہ قرار پایا کہ حکومت وقت سے تصادم کرکے اس سے اقتدار چھینا جائے تاکہ مکمل قانون کو نافذ کیا جاسکے مسلم اقلیت کے ملکوں میں اس قسم کے سیاسی جہاد کے مواقع نہیں تھے ، اس لئے یہاں یہ تفسیر تقریری اور تحریری مہم تک محدود رہی ۔ مسلم اکثریت کے ممالک جہاں مواقع کھلے ہوئے تھے، وہاں اس نے نے قائم شدہ مسلم حکومت کے خلاف براہ راست اقدام کی صورت اختیار کی۔ اس کے نتیجہ میں نہ صرف حرث و نسل کی ہلاکت اور باہمی فساد وجود میں آیا بلکہ اقامت دین کے نام پر یہ عظیم نقصان ہوا کہ ملت کے اندر دینی اتحاد کی وہ فضا بالکل برباد ہوگئی جو اقامت دین کے حکم کا مقصود اصلی تھا۔ اقامت دین کی تحریک کے یہ برعکس نتائج کافی تھے کہ اس کے علم بردار اپنے فکر پر نظر ثانی کریں۔ مگر انھوں نے یہ کیا کہ نئی نئی تفسیریں لکھ کر اپنے پیروؤں کے ذہن کو مزید پختہ کرنے کی کوشش کی ۔ یہاں ہم اس سلسلے میں ایک تفسیر میں شائع شدہ بحث کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ مذکورہ مفسر قرآن سورہ شوریٰ کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں : «بعض لوگوں نے دیکھا کہ جس دین کو قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ تمام انبیاء علیہم السلام کے درمیان مشترک ہے اور شریعتیں ان سب کی مختلف رہی ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: لكل جعلنا منكم شرعة و منهاجا، اس لئے انھوں نے یہ رائے قائم کرلی کہ لامحالہ اس دین سے مراد شرعی احکام و ضوابط نہیں ہیں بلکہ