اقامت دین کے بارے میں
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۴۱
صرف توحید و آخرت اور کتاب و نبوت کا ماننا اور اللہ تعالی کی عبادت بجا لانا ہے۔ یا حد سے صدرس میں موٹے موٹے اخلاقی اصول شامل ہیں جو سب شریعتوں میں مشترک رہے ہیں۔ لیکن یہ بڑی سطحی راہ ہے جو محض سرسری نگاہ سے دین کی وحدت اور شرائع کے اختلاف کو دیکھ کر قائم کر لی گئی ہے اور یہ ایسی خطر ناک رائے ہے کہ اگر اس کی اصلاح نہ نہ کردی جائے تو آگے بڑھ کر بات دین و شریعت کی اس تفریق تک جا پہنچے گی جس میں مبتلا ہو کر سینٹ پال نے دین بلا مشرک کا نظریہ پیش کیا اور سیدنا مسیح علیہ السلام کی امت کو خراب کر دیا۔ اس لئے کہ جب شریعت دین سے الگ ایک چیز ہے اور حکم صرف دین کو قائم کرنے کا ہے نہ کہ شریعت کو ، تو لامحالہ مسلمان بھی عیسائیوں کی طرح شریعت کو غیر اہم اور اس کی اقامت کو غیر مقصود بالذات سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے اور صرف ایمانیات اور موٹے موٹے اخلاقی اصولوں کو لے کر بیٹھ جائیں گے۔ اس طرح کے قیاسات سے دین کا مفہوم متعین کرنے کے بجائے آخر کیوں نہ ہم خود اللہ کی کتاب سے پوچھ لیں کہ جس دین کو قائم کرنے کا حکم یہاں دیا گیا ہے، آیا اس سے مراد صرف ایمانیات اور چند بڑے بڑے اخلاقی اصول ہی ہیں یا شرعی احکام بھی ۔ اس کے بعد مختلف آیتیں نقل کر کے دکھایا گیا ہے کہ قرآن میں دین کا لفظ ایمانیات کے علاوہ قوانین وا حکام کے لئے بھی آیا ہے۔ اس لئے لازما تمام احکام کو دین میں شمار ہونا چاہئے اور ان سب کو بروئے کار لانے کا نام اقامت دین ہونا چاہئے ) ۴۰ - ۴۸ ا۔ مذکورہ بالا اقتباس میں " بعض کا لفظ معاملہ کی سنگینی کو گھٹا رہا ہے ۔ کیوں کہ یہ رائے صرف " بعض مفسرین کی نہیں ہے بلکہ بلا استثناء تمام قابل ذکر مفسرین کی ہے۔
۲۔ مذکورہ رائے کو سطحی اور سرسری قرار دینے کے لئے کوئی دلیل نہیں۔ جب حکم کہے الفاظ یہ ہیں کہ " تمام نبیوں کے دین کی پیروی کرو، اس میں متفرق نہ ہو، تو لا محالہ قرآن کی اس خاص آیت میں دین کا مشترک حصہ مراد لینا ہوگا نہ کہ متفرق حصہ۔
۳۔ اقیموا الصلوۃ کی آیت میں کوئی شخص اقیموا الزکوۃ کو شامل نہ سمجھے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ حکم زکوۃ کا انکار کر رہا ہے ۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ زکوۃ کا حکم دوسری آیت میں ہے نہ کہ اقیموا الصلوۃ کی آیت میں ۔ اسی طرح اقیموا الدین میں شرائع کو مراد نہ لینے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ شرائع سرے سے مطلوب نہیں ہیں ۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اس آیت میں شامل نہیں ہیں۔ ان کا حکم دوسری آیتوں سے نکلتا ہے اور وہاں جو الفاظ ہیں انہیں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کی نوعیت کیا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ان الارض لله (اعراف ۱۲۸) سے اجتماعی ملکیت کا اصول نکالے تو کہا جائے گا کہ اس آیت کا ملکیت کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملکیت کے بارے میں بھی بلاشبہ اسلام کے احکام ہیں۔ مگر وہ دوسری آیتوں سے معلوم ہوتے ہیں نہ کہ ان الارض لله سے ۔
۴ ۔ اس ضمن میں سینٹ پال کا حوالہ بالکل غیر متعلق ہے۔ سینٹ پالیت جس چیز کا نام ہے وہ یہ کہ کوئی شخص اپنے فعل (خواہ اعتقادی ہو یا عملی) سے نجات نہیں پاتا۔ بلکہ اس خاص عقیدہ کو ماننے سے نجات پاتا ہے کہ خدا کا بیٹا اہر