اقامت دین کے بارے میں
الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۴۴
مارنا خدا کی زمین میں صرف فساد برپا کرنے کا باعث ہتا ہے نہ کہ انصاف قائم کرنے کا۔ ایسے لوگ جو دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا لگانے کے لئے تو بہت بے قرار ہوں۔ مگر خود اپنی ’’پیٹھ‘‘ پر لفظی تنقید کو بھی برداشت نہ کریں، وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہیں۔ قیامت میں ان سے پوچھا جائے گا کہ جب تمھاری انسانیت کا یہ حال تھا کہ تم لفظی کوڑے کی مار برداشت کرنے کے لئے بھی تیار نہ تھے تو تم کو کیا حق تھا کہ دوسروں کے اوپر مادی کوڑے برسانے کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ اس تعبیر کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ جو چیز خدا کے نزدیک اہم تھی وہ غیر اہم بن گئی اور جو غیر اہم تھی وہ اہم قرار پائی۔ مذکورہ مفسر اقیمو الدین کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’انبیاء علیہم السلام کو جب اس دین کے قائم کرنے اور قائم رکھنے کا حکم دیا گیا تو اس سے مراد صرف اتنی بات نہ تھی کہ وہ خود اس دین پر عمل کریں۔ اور اتنی بات بھی نہ تھی کہ وہ دوسروں میں اس کی تبلیغ کریں تاکہ لوگ اس کا حق تسلیم کر لیں، بلکہ یہ بھی تھی کہ جب لوگ اسے تسلیم کر لیں تو اس سے آگے قدم بڑھا کر پورا کا پورا دین اس میں عملاً رائج اور نافذ کیا جائے۔ تاکہ اس کے مطابق عمل در آمد ہونے لگے اور ہوتا رہے۔ اس میں شک نبیں کہ دعوت و تبلیغ اس کام کا لازمی ابتدائی مرحلہ ہے جس کے بغیر دوسرا مرحلہ پیش نہیں آ سکتا۔ لیکن ہر صاحب عقل آدمی خود دیکھ سکتا ہے کہ اس حکم میں دعوت و تبلیغ کو مقصود کی حیثیت نہیں دی گئی ہے۔ بلکہ دین قائم کرنے اور قائم رکھنے کو مقصود قرار دیا گیا ہے۔ دعوت و تبلیغ اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ضرور ہے مگر بجائے خود مقصد نہیں ہے۔ کجا کہ کوئی شخص اسے انبیاء کے مشن کا مقصد و وحید قرار دے بیٹھے۔ ‘‘ ۱۸۸ قرآن میں تمام انبیاء کے بارے میں صراحتہ یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ صرف تبلیغ (پہنچادینے) پر مامور تھے۔ قوموں کو پوری طرح باخبر کر دینے کے بعد ذاتی ذمہ داری کی حد تک ان کا کام ختم ہو جاتا تھا۔ ’’قائم کرنا اور قائم رکھنا‘‘ تمام تر مدعو کے اپنے رد عمل پر منحصر ہے۔ اس کو انبیاء کی ذمہ داری کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔ قرآن میں کوئی ایک آیت ایسی نہیں ہے جس میں نبیوں کے مشن کو ’’قائم کرنے اور قائم رکھنے‘‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔ اس کے برعکس کثرت سے ایسی آیتیں موجود ہیں جن میں پہنچا دینے کو ان کا فرض منصبی بتایا گیا ہے۔ مثلاً : فھل علی الرسل الا البلاغ المبین (نحل (۳۵) پس رسولوں پر ذمہ نہیں مگر پہنچا دینا کھول کر وما نرسل المرسلين الا مبشرين ومنذرین (انعام (۴۸) اور نہیں بھیجتے ہیں ہم پیغمبروں کو مگر بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ۔
دعوتی جد و جہد کی عملی تفسیر انبیاء کرام کی زندگیاں ہیں، ہر نہی نے دعوت دین کے کام کو کامل اور مکمل صورت میں انجام دیا۔ اس لئے اس مہم کی اُسی انجام دہی کو ’’مقصود‘‘ کی حیثیت دی جائے گی جو تمام انبیاء کے یہاں مشترک طور پر پائی جاتی ہو۔ اور معلوم ہے کہ تمام انبیاء کے یہاں جو چیز مشترک طور پر پائی جاتی ہے وہ پہنچا دینا ہی ہے نہ کہ پورے کے پورے دین کو عملاً رائج و نافذ کر دینا۔ یہ واقعہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ دعوتی مشن کا اصل مقصود یہ ہے کہ مدعو تک خدا کا پیغام پوری طرح پہنچ جائے ۔ نہ کہ اس کا قائم کرنا اور قائم رکھنا۔