Al-Risala · May 1979 · page 43

اقامت دین کے بارے میں

الرسالہ، مئی ۱۹۷۹، صفحہ ۴۳

لے لیا اور باقی سب کو چھوڑ دیا"۔ انہیں کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس متفق علیہ دین کو پکڑو جو اصلاً اور دائماً مطلوب ہے۔ فروعی اور اختلافی چیزوں کو مدار اقامت نہ بناؤ۔ اس سے مراد موٹی موٹی تعلیمات" نہیں بلکہ وہ اصل اور حقیقی تعلیمات ہیں جن پر آخرت کا نجات کا انحصار ہے۔ انبیاء کی غیر اختلافی تعلیمات کیا تھیں، اس کے متعلق ہم کو قیاس کرنے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کے تتبع سے اس کو واضح طور پر معلوم کیا جاسکتا ہے۔ چند حوالے ملاحظہ ہوں: ۲۵ انبیاء 1- اللہ کے سوا کسی کو الہٰ نہ بنانا ۱۳ فصلت 2- صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا ۲ نحل 3- اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا ۵۱ مومنون 4- رزق طیب کھانا اور عمل صالح کرنا ۵۲ حدید 5- ایک دوسرے کے ساتھ انصاف برتنا ۳۵ احقاف 6- دوسروں کی ڈالی ہوئی اذیت پر صبر کرنا ۸۱ آل عمران 7- دعوت حق کا ساتھ دینا ۱۶۵ نساء 8- لوگوں کو جہنم سے ڈرانا اور جنت کی خوش خبری دینا یہی تمام انبیاء کا دین رہا ہے اور یہی وہ دین ہے جو اصلاً اور حقیقۃً اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ ظاہری اعمال بھی وہی مقبول ہیں جن میں مندرجہ بالا تعلیمات کی روح پائی جائے۔ اس کے بغیر کسی عمل کی کوئی قیمت نہیں۔ مزید یہ کہ انہیں تعلیمات میں اللہ کا پورا دین آ جاتا ہے۔ جو شخص ان چیزوں پر قائم ہو جائے وہ پورے دین پر قائم ہو گیا۔ اللہ کے نزدیک اس نے اپنے دین کو کامل کر لیا۔ دین اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کوئی خارجی نظام" نہیں ہے جس کو اقتدار پر قبضہ کر کے لوگوں کے اوپر نافذ کیا جائے۔ دین حقیقۃً آدمی کی اپنی زندگی کا نقشہ ہے۔ آدمی کا اپنا وجود جس کے ساتھ وہ صبح و شام جی رہا ہے، جس کو لے کر وہ پیدا ہوتا ہے اور جس کو لے کر وہ مر جاتا ہے، اس وجود کو دین دار بنانا اور اس کو ہمہ تن اللہ کی مرضیات پر ڈھال لینا ہی در اصل اقامت دین ہے۔ یہ انسانی وجود کی قانون یا کسی سیاسی ادارہ کی گرفت سے باہر کی چیز ہے۔ یہ صرف آدمی کے اپنے ارادہ کی گرفت میں آتا ہے۔ اس پر کسی دوسرے کا حکم نہیں چلتا بلکہ صرف اپنا حکم چلتا ہے۔ اسی انسانی وجود پر خود اپنے ارادہ سے دین کو غالب کرنے کا نام اقامت دین ہے نہ کہ حکمرانوں سے سیاسی منازعت کرنے یا دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا مارنے کا۔

سیاسی اقتدار بھی بلاشبہ اسلام میں مطلوب ہے۔ مگر وہ اہل اسلام پر اللہ تعالیٰ کا انعام (نور ۵۵ ) ہے۔ یہ انعام صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ اہل اسلام کا کوئی گروہ قابلِ تعداد میں اپنے اوپر مذکورہ دین کو قائم کر چکا ہو۔ اساسات دین کی اقامت کے بعد ہی شرائع دین کی اقامت کے مواقع کھولے جاتے ہیں اصل دین پر خود قائم ہو جانا گویا اپنی پیٹھ کو "کوڑے" کے لئے پیش کر دینا ہے۔ جو لوگ اس خود سپردگی کا ثبوت دے دیں اس کو دوسروں کی پیٹھ پر کوڑا مارنے کی سیاسی اجازت نامہ عطا ہوتا ہے۔ خود سپردگی کی اس کیفیت کے بغیر لوگوں کو کوڑا

‹ Previous page Next page › Contents of May 1979 All issues

Printed page