ہمال ورق که سیہ گشته مدعا این جاست
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۱۴
ہمال ورق که سیہ گشته مدعا این جاست
قرآن کو خالی الذہن ہو کر پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کی دعوت کا اصل نکتہ آخرت ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں جو بے شمار اسلامی تحریکیں اٹھیں ، ان میں سے کسی تحریک نے بھی "انذار آخرت" کو اپنی دعوت کا بنیادی نکتہ نں بنایا۔ روایتی طور پر بلا شبہ ہر تحریک میں آخرت کا لفظ شامل رہا۔ مگر ایسا کسی تحریک میں نظر نہیں آتا کہ اس نے آخرت انتباہ کو اپنا نصب العین قرار دیا ہو اور یہی فکر اس کی تمام سرگرمیوں پر چھایا ہو ہو۔ ۱۹۴۷ء میں ایک بڑی اسلامی جماعت کا سالانہ اجتماع ہوا۔ اس موقع پر جماعت کے ذمہ دار اعلیٰ نے جو صدارتی تقریر کی ، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے راقم الحروف نے لکھا تھا : ایک جلسہ عام کے موقع پر اسلامی تحریک کا تعارف کرنے کے لئے آپ خطبہ صدارت تیار کرتے ہیں جس میں شروع ہی میں بتایا جاتا ہے کہ دعوت اسلامی کے تین نکات ہیں ـــــــــ خدا، آخرت، رسالت ۔ مگر اس کے بعد " دنیا میں جو کچھ بگاڑ پایا جاتا ہے اس کا حقیقی سبب ان بنیادی باتوں سے انحراف ہے " کے فقرہ سے جو گریز شروع ہوتا ہے تو چالیس صفحات کا کا پورا خطبہ مسائل ملکی کی نذر ہو جاتا ہے اور کہیں بھی یہ بتانے کی نوبت نہیں آتی کہ مرنے کے بعد بھی تمھارا کوئی مسئلہ ہے جس سے تمھیں ڈرنا چاہئے۔ البتہ تقریر ختم ہونے لگتی ہے تو پھر روایتی ذہن مجبور کرتا ہے کہ اس قسم کا ایک فقرہ رکھ دیا جائے ـــ مومن کا اول و آخر مقصد رضائے الہی اور فوز آخرت ہے " آپ کے اس کے طویل لفظی مجموعہ پر بے شک میں کوئی منطقی اعتراض نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ اس میں دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کو اسلام کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔ مگر پوری تفسیر پڑھ کر ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ داعی کس بات سے لوگوں کو ڈرانا چاہتا ہے اور اس کے اوپر کیا چیز سوار ہے۔ ملک کے لسانی جھگڑے اور معاشی قضیے اس کو نظر آتے ہیں۔ یا وہ دیکھ رہا ہے کہ اسرافیل صور لئے کھڑے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ کس وقت حکم ہوا اور پھونک مار کر دنیا کو تہ و بالا کردیں۔ (تعمیر کی غلطی، مطبوعہ ۱۹۷۳ء، صفحہ: ۳۴) اس کمی کا یہ نتیجہ ہے کہ اسلامی تحریکوں کی کثرت کے باوجود وہ افراد نہیں پیدا ہو رہے ہیں جو اسلام کا اصل مقصود ہیں۔ آج اسلام کے جھنڈے ہر طرف لہرا رہے ہیں ، لاؤڈ اسپیکر پر اسلامی الفاظ کا غلغلہ بلند ہے۔ اسلام کے نام پر سارے عالم میں آمد و رفت کا طوفان جاری ہے اسلامی جلسوں اور اسلامی کانفرنسوں کے شور سے زمین کی فضائیں معمور ہو رہی ہیں ۔ پھر بھی مسلمان مغلوب ہیں۔ اس کے باوجود اسلام کا احیاء نہیں ہوتا ۔ اس کی وجہ کیا ہے۔
اس کی وجہ صرف ایک ہے ، اسلام کا غلبہ اسلام کے الفاظ بولنے سے نہیں ہوتا۔ بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ اللہ سے ڈرنے والے لوگ پیدا ہو جائیں ۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کا تمام ہنگاموں کے باوجود کہیں پتہ نہیں۔ خدا کی بھری ہوئی زمین میں وہ انسان کہیں دکھائی نہیں دیتا جو خدا کے خوف سے کانپتا ہو، خدا کے تصور سے جس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہوں جس نے خدا کی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے کو پست کر رکھا ہو۔ قیامت کے اندیشہ نے جس کی نیند اڑارکھی ہو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے لوگ ظاہری زندگی کی سطح پر جی رہے ہیں۔ آخرت کی سطح پر جینے والے اتنے نایاب ہیں کہ شاید اب ان کا کہیں وجود ہی نہیں۔ مکان کے چرچے ہوں مگر اینٹ موجود نہ ہو تو مکان کس طرح بن جائے گا (۱۰ مارچ ۱۹۷۹)
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues