جب عقل چھین لی جائے
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۱۳
جب عقل چھین لی جائے
کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار دعا کی کہ "خدایا! میری قوم سے سب کچھ چھیننا مگر عقل نہ چھیننا۔ " اللہ تعالیٰ نے جواب دیا "اے موسیٰ! جب ہم کسی سے چھیننے والے ہوتے ہیں تو اس کی عقل ہی تو سب سے پہلے چھینتے ہیں۔ " اللہ کا یہ فیصلہ جب کسی قوم پر نافذ ہوتا ہے تو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کی تمام کارروائیوں پر بے عقلی چھا جاتی ہے۔ اس کا ہر فرد اس طرح ہوتا ہے جیسے اس کو یہ ابتدائی اصول بھی معلوم نہ ہو کہ آدمی کو چاہیے کہ بولے تو بھلی بات بولے ورنہ چپ رہے۔ اس کے مقررین ایسی تقریریں کرتے ہیں جیسے انہیں خبر ہی نہ ہو کہ تقریر کا مطلب ہے با معنی کلام سنانا نہ کہ الفاظ فضا میں بکھیرنا۔ اس کے عمل کرنے والے اس طرح عمل کرنے لگتے ہیں جیسے ان کو پتہ ہی نہ ہو کہ عمل کا مطلب ہے کوئی نتیجہ خیز کام کرنا نہ کہ محض لاحاصل اکھیڑ پچھاڑ کرنا۔ اس کے لیڈر ایسی سیاستیں چلاتے ہیں جیسے وہ جانتے ہی نہ ہوں کہ سیاست ایسی کوشش کا نام ہے جو سماج میں اصلاح لائے نہ کہ فساد اور بگاڑ پیدا کرے ۔ اس کے اہل قلم ایسی تحریریں لکھتے اور چھاپتے ہیں جیسے ان کو اس بات کا شعور ہی نہ ہو کہ ایک قابل مطالعہ چیز پیش کرنے کا نام لکھنا ہے نہ کہ کچھ سطریں تیار کر کے چھاپ دینا۔ وہ اپنے حقوق کے لئے ایسی مطالباتی مہمیں چلاتے ہیں جیسے وہ اس حقیقت سے بالکل بے خبر ہوں کہ عمل سے استحقاق پیدا ہوتا ہے نہ کہ گدھے کی طرح چیخنے چلانے سے ۔ ایسے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں مگر اپنے مشاہدہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے انہوں نے نہیں دیکھا۔ وہ اپنے کانوں سے سنتے ہیں مگر سنی ہوئی بات کو اس طرح دہراتے ہیں جیسے انہوں نے نہیں سنا۔ وہ پڑھتے ہیں مگر پڑھی ہوئی چیز پر اپنا رد عمل اس طرح ظاہر کرتے ہیں جیسے انہوں نے نہیں پڑھا۔ حتیٰ کہ ان کا حال جانوروں کا سا ہو جاتا ہے جو بظاہر آنکھ اور کان اور دل رکھتے ہیں۔ مگر ان کو کسی بات کی خبر نہیں ہوتی۔ یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن میں کہا گیا ہے :
لهم قلوب لا يفقهون بها و لهم اعين لا يبصرون ان کے دل ہیں جن سے وہ نہیں سمجھتے۔ ان کے آنکھیں ہیں بها و لهم اذان لا يسمعون بها اولئك كالانعام جن سے وہ نہیں دیکھتے۔ ان کے کان ہیں جن سے وہ نہیں بل هم اضل اولئك هم الغفلون سنتے۔ وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ وہ ان سے بھی زیادہ (اعراف ۱۷۹) بے راہ ہیں۔ یہ غافل لوگ ہیں۔
جب کوئی قوم اس سطح پر پہنچ جائے تو کوئی دلیل اس کو دلیل نظر نہیں آتی۔ دلیل کا وزن آدمی اپنی عقل سے سمجھتا ہے اور عقل کو کھو کر وہ پہلے ہی اس سے محروم ہو چکا ہے۔ کھلے کھلے دلائل کے مقابلہ میں وہ ایسے الفاظ کا سہارا پا لے گا جو اس کے اپنے ذہن سے باہر اپنی کوئی قیمت نہ رکھتے ہوں ۔ اس کے منصوبوں کا غلط ہونا تجربات سے بالکل ثابت ہو رہا ہوگا مگر بد ترین ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد وہ اسی ناقص منصوبہ کو از سر نو دہرانے کے لئے کھڑا ہو جائے گا۔ کوئی معقول بات اس کی سمجھ میں نہ آئے گی ۔ کیوں کہ کسی بات کی معقولیت کو سمجھنے کے لئے عقل کی ضرورت ہے۔ البتہ غیر معقول بات کو وہ خوب سمجھے گا کیوں کہ اس کو سمجھنے کے لئے بے عقلی کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues