جدید انسان کا المیہ
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۱۶
جدید انسان کا المیہ
سالزنتسین (Alexander Solzhenitsyn) ایک روسی ناول نگار ہے۔ اپنے تنقیدی ذہن کی وجہ سے اس کو روس سے نکال دیا گیا ۔ ۱۹۷۴ میں وہ سوئٹزر لینڈ پہنچا اور وہاں سے امریکہ آیا۔ اس وقت سے وہ امریکہ کے شمال مشرقی علاقہ میں مقیم ہے ۔
جون ۱۹۷۸ میں سالزنتسین کا ایک لکچر ہارورڈ یونیورسٹی میں ہوا۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ روسی انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک قسم کی روحانی گھٹن میں (Suffocation of Spiritual Life)
مبتلا ہے ۔
موسیقی کی اذیت
حال میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کا نام ہے : گا ۔ " جواب یہ ہے کہ " ۲۹ ویں دن گویا نصف حوض بھرنے میں تو ۲۹ دن لگیں گے مگر اس کے بعد پورا حوض صرف ایک دن میں بھر جائے گا۔ پچھلا سفر ۲۹ دن میں طے ہوا، اگلا سفر صرف ایک دن میں طے ہو جائے گا۔
مشہور امریکی ماہر اقتصادیات لسٹر براؤن کے نزدیک یہی ہماری زمین کی صورت حال ہے۔ ہماری زمین جس پر اس وقت تقریباً چار ارب انسان بستے ہیں، اپنے ۲۹ ویں دن میں ہے۔
تہذیب کے بعد ریگستان
مالتھس (۱۸۳۴ء ۔ ۱۷۶۶) نے کہا تھا کہ خوراک کے ذخیرے جس نسبت سے بڑھتے ہیں، آبادی میں اس سے دگنا رفتار سے اضافہ ہوتا ہے۔ مگر وہ یہ بتانے میں ناکام رہا کہ تہذیب انسانی کی ترقی اکثر اوقات پیدا واری امکانات جدید موسیقی کی اذیت‘‘ Henry Pleasants, The agony of Modern Music اس میں دکھایا گیا ہے کہ عام تصور کے برعکس، موسیقی انسان کے لئے نفسیاتی اور حیاتیاتی طور پر اذیت بخش زیادہ ہے اور مسرت بخش کم۔
۲۹ واں دن
لیسٹر براؤن (Lester R. Brown) کی ایک کتاب حال میں چھپی ہے جس کا نام ہے :
The Twenty Ninth Day
(۲۹ واں دن) کتاب کا یہ نام ایک فرانسیسی پہیلی سے لیا گیا ہے کو برباد کردیتی ہے۔ شرق اوسط جو انسان کا قدیم ترین مسکن رہا ہے۔ پچھلے ادوار میں وہاں بڑے بڑے جنگل تھے۔ اب یہ علاقہ بڑی حد تک بے درخت اور ریگستان ہو چکا ہے ۔ ایک فرانسیسی مفکر نے کہا ہے :
THE FORESTS COME BEFORE CIVILI- ZATION, THE DESERTS AFTER THEM. The Times of India, 28-5-1978 تہذیب سے پہلے جنگلات ہوتے ہیں اور تہذیب کے بعد ریگستان ۔ هندوستان کا حصہ . خلیج عرب کے ممالک کی کل آبادی ۱۲۰ لاکھ ہے ۔ اس میں روزگار کے لئے جانے والے ہندوستانیوں کی تعداد ) ایک حوض ہے جس میں سوسن (Lily) کے درخت ہیں۔ پہلے دن اس سوسن میں صرف ایک پتی ہے ۔ دوسرے دن دو ہو جاتی ہیں۔ تیسرے دن چار، چوتھے دن آٹھ۔ " اگر حوض ۳۰ ویں دن بھر جاتا ہے پہیلی کہتی ہے" تو کب وہ آدھا بھرا ۲۵ فی صد ہے۔ اس وقت ہندوستان کو عرب ملکوں سے غیر ملکی کرنسی کی صورت میں جو رقم حاصل ہورہی ہے اس کی مقدار سالانہ ۱۵۰۰ کروڑ روپے ہے۔ دولت حاصل کرنے کے لئے لوگ پہلے ولایت جایا کرتے تھے، اب انکی منزل عرب بن رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues