وہ لوگ جو آخرت کے باغوں میں جگہ پائیں گے
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۱۷
وہ لوگ جو آخرت کے باغوں میں جگہ پائیں گے
آدمی کو چاہیے کہ خدا سے اتنا قریب ہو جائے کہ ہر وقت اس کو خدا کی یاد آتی رہے۔ اللہ کی بڑائی کا احساس اس کے اوپر اتنا چھا جائے کہ اپنا وجود اس کو بے حقیقت نظر آنے لگے۔ جنت اور جہنم کا اس کو اتنا یقین ہو جائے کہ دنیا کے آرام و تکلیف سے زیادہ اس کو آخرت کے آرام و تکلیف کی فکر رہنے لگے۔ وہ اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھائے کہ اپنی غلطیاں اس کو اس طرح دکھائی دینے لگیں جس طرح کسی کو اپنے دشمن کی غلطیاں دکھائی دیتی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو نفسیاتی گرہوں سے اتنا آزاد کر لے کہ اختلاف اور شکایت کے باوجود دوسرے کے لئے اس کے دل سے دعائیں نکلنے لگیں۔ حق کا اعتراف نہ کرنا اس کو ایسا معلوم ہو گا یا وہ اپنے آپ کو قتل کر رہا ہے۔ دوسرے کا آشیانہ اجاڑنا اس کو ایسا لگے جیسے وہ خود اپنے آشیانہ میں آگ لگا رہا ہے۔ یہی خدا پرستی کی زندگی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا اپنی جنتوں میں جگہ دے گا۔
جو لوگ اللہ کے سچے بندے بن جائیں، ان کے لئے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ دنیا میں انہیں غالب کرے گا۔ یہ غلبہ ان کی خدا پرستی کا اصل انعام نہیں بلکہ اصل انعام کی ایک ابتدائی علامت ہے۔ خدا پرستوں کے لئے اللہ نے جو انعام مقدر کر رکھا ہے وہ یہ ہے کہ قیامت کے بعد آنے والی دنیا میں وہ ان کو غلبہ وسربلندی عطا کرے ۔ ان کو ہر قسم کے خوف اور حزن سے پاک کر کے اپنی رحمتیں اور نعمتیں دائمی طور پر ان کی وراثت میں دے دے۔ اسی کا نام جنت والی زندگی ہے جو آخرت میں مومنین صالحین کو حاصل ہوگی۔ مگر جب اہل ایمان کا کوئی قابل لحاظ گروہ بن جاتا ہے تو اللہ اس دنیا میں بھی اس کو علامتی طور پر غالب کر دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں سرکش اور غافل انسانوں کو مغلوب کر کے دکھایا جاتا ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں کون عزت اور برتری کے مقام پر ہوگا اور کون ذلت اور پستی کے گڑھے میں ڈال دیا جائے گا یہ وقت کا سوال ہے نہ کہ قیمت کا آکسفورڈ یو نیورسٹی 11۶۳ میں قائم ہوئی ۔ اس کے ہرے ہرے لان ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ ایک امریکن کروڑ پتی نے اس کے لان دیکھے تو وہ ان کو بہت پسند آگئے ۔ انھوں نے چاہا کہ ایسا ہی لان ان کی کوٹھی میں بھی ہو۔ " ایسا لان کتنے ڈالر میں تیار ہو جائے گا "، انھوں نے آکسفورڈ کے مالی سے پوچھا۔
"مفت میں"، مالی نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا " وہ کیسے “ "اس طرح کہ آپ اپنی زمین کو ہموار کر کے اس پر گھاس جما دیجئے ۔ جب گھاس بڑھے تو اس کو کاٹ کر اوپر سے رولر پھیر دیجئے ۔ اسی طرح پانچ سو برس تک کرتے رہیے۔ جب پانچ سو سال پورے ہوں گے تو ایسا ہی لان آپ کے یہاں تیار ہو جائے گا۔ یہ وقت کا سوال ہے نہ کہ قیمت کا۔ “
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues