Al-Risala · June 1979 · page 22

وہ مواقع جو استعمال نہ ہو سکے

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۲۲

دیوانی و فوجداری مقدمات ان کے اپنئے قونصل کے سپرد کر دئے گئے۔ ان کو ترکی میں پوری مذہبی آزادی حاصل تھی اور ترکی میں واقع عیسائیوں کے مقامات مقدسه کی نگرانی بھی ان کا حق تھا۔ اس دوستانہ معاہدہ کی وجہ سے فرانس اور ترکی کے تعلقات تقریباً تین صدیوں تک بہت خوش گوار رہے۔ ان تعلقات سے فرانس میں بہت بڑے پیمانہ پر تبلیغ کا فائدہ حاصل کیا جا سکتا۔ مگر اس سلسلہ میں کچھ بھی نہ کیا جا سکا۔

اسی طرح ترکی اور روس قدیم زمانہ میں ایک دوسرے کے روایتی حریف تھے۔ اگست ۱۹۱۴ء میں جب یورپ کی عالمگیر جنگ چھڑی تو ایک طرف روس، برطانیہ اور فرانس تھے جن کو اتحادی طاقتیں (Allied Powers) کہا جاتا تھا۔ دوسری طرف جرمنی اور اٹلی وغیرہ تھے جن کو محوری طاقتیں (Axis Powers) کہا جاتا تھا۔ مصطفیٰ کمال اور بعض دوسرے لوگوں کی رائے تھی کہ ترکوں کو اس جنگ سے علیحدہ رہنا چاہئے۔ اس وقت ترکی کے اقتدار پر انور پاشا اور ان کے پرجوش ساتھیوں کا قبضہ تھا، انھوں نے روس اور برطانیہ کی دشمنی میں جرمنی کا ساتھ دیا۔ اس جنگ میں ترکوں کی شرکت نے اتحادیوں کے لئے سخت دشواریاں پیدا کر دیں۔ ترکوں نے آبنائے باسفورس اور درہ دانیال کو دشمن کے جہازوں کے لئے بند کر دیا۔ اس کی وجہ سے برطانیہ اور فرانس کا تعلق روس سے منقطع ہو گیا۔ روس اس وقت ایک غیر صنعتی ملک تھا اس لئے جب تک برطانیہ اور فرانس کے کارخانوں سے اس کو کافی مقدار میں سامان جنگ فراہم نہ ہوتا رہے وہ جدید طرز کی جنگ کو کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔ تاہم ترکی کے لئے یہ پالیسی بہت مہنگی پڑی۔ جنگ میں جرمنی کو شکست ہوئی اور اس کے بعد ترکی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔ قسطنطنیہ کے تخت پر اگر چہ برائے نام سلطان باقی رہا مگر عملاً ترکی کے تمام معاملات اتحادیوں کے قبضہ میں آگئے ۔ یہ سب کچھ ہوا۔ مگر جرمنی سے اتنے لمبے قریبی تعلق کے باوجود جرمنی میں تبلیغ اسلام کا کوئی کام نہ کیا جا سکا۔ اس قسم کے سیاسی اور اقتصادی اتحاد کی مثالیں مسلم حکومتوں کی تاریخ میں کثرت سے ملیں گی۔ مگر ایسی کوئی مثال نہیں جب کہ دعوت و تبلیغ کے مقصد کی خاطر کسی سے اتحاد کیا گیا ہو۔ یا سیاسی اتحاد کے ذریعہ پیدا شدہ حالات سے دعوتی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہو۔ اگر دعوتی مزاج ہوتا تو اس قسم کے اتحاد سے غیر معمولی دعوتی فائدے حاصل کئے جاسکتے تھے۔ اور مسلمانوں کی تاریخ اس سے بالکل مختلف ہوتی جو آج ہمیں نظر آتی ہے۔

موجودہ زمانہ میں انسانوں کے باہمی تعلقات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ مگر تعلقات میں اضافہ کا یہ فائدہ حاصل نہ ہو سکا کہ مسلمان نے مواقع کو دوسرے لوگوں تک دین کا پیغام پہنچانے میں استعمال کرتے۔ انفرادی روابط اور قومی تعلقات دونوں ہی اس قسم کا کوئی فائدہ حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ہمارے اسلاف کا یہ حال تھا کہ وہ ربط و تعلق کے ہر موقع کو دعوت کے لئے استعمال کرتے تھے۔ مگر آج مسلمانوں کے لئے دوسری قومیں صرف دو باتوں کا موضوع بن کر رہ گئی ہیں۔ معاشی فائدہ حاصل کرنا یا سیاسی جھگڑے کھڑے کرنا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ ہے نہ کہ حقوق طلبی اور قومی محاذ آرائی کا۔ مسلمان اپنی لڑائی جھگڑے کی سیاست سے دوسری قوموں کو اسلام سے متوحش کرنے کا کام تو بہت بڑے پیمانہ پر کر رہے ہیں مگر ان کو اسلام کے قریب لانے سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page