Al-Risala · June 1979 · page 21

وہ مواقع جو استعمال نہ ہو سکے

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۲۱

وہ مواقع جو استعمال نہ ہو سکے

فریڈرک ٹوکر (۱۹۲۹-۱۸۵۳) ایک انگریز آئی سی ایس تھا۔ وہ کمشنر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا کہ اس کے اندر مذہبی اور روحانی جذبہ پیدا ہوا۔ اس نے ۱۸۸۱ میں سرکاری ملازمت سے استعفا دے دیا۔ انگلستان میں اس وقت جنرل ولیم بوتھ کے تحت سالویشن آرمی (نجات دہندہ فوج) کی تحریک چل رہی تھی۔ اس نے جنرل بوتھ کو آمادہ کیا کہ اس تحریک کی ایک شاخ ہندوستان میں قائم کی جائے۔ چنانچہ ۱۹ ستمبر ۱۸۸۲ کو اس کی پہلی شاخ بمبئی میں قائم ہوئی۔ فریڈرک ٹوکر (Frederick Tucker) نے اپنا نام فقیر سنگھ رکھ لیا۔ وہ پنجاب کے دیہاتوں میں ننگے پاؤں گھومتا اور لوگوں کو روزگار پر لگانے کی کوشش کرتا۔ اس نے دیہی بنک قائم کئے۔ گھریلو صنعتیں رایج کیں اور کالونیاں بنائیں، وغیرہ (ٹائمز آف انڈیا، ۱۱ مارچ ۱۹۶۹)

"استعمار" کے زمانہ میں اس طرح کے بہت سے انگریز تھے جن کی فطرت زندہ تھی اور جن کے اندر دین حق کا بیج ڈالا جا سکتا تھا۔ مگر تمام قائدین سیاسی ہنگاموں میں لگے رہے۔ خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پہنچانے کی ضرورت کسی کو محسوس نہ ہوئی۔ اس قسم کے لوگ اگر آخرت میں کہیں کہ خدا یا ہم حق کی تلاش میں تھے۔ مگر حق کے امانت داروں نے ہم کو حق سے آشنا نہیں کیا۔ وہ تو ہم سے صرف سیاسی لڑائی لڑتے رہے تو مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے قائدین کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا۔

یہ ان مواقع کی ایک مثال تھی جو انفرادی اعتبار سے ہمارے لئے پیدا ہوئے۔ حالیہ زمانے میں اسی قسم کے مواقع اجتماعی سطح پر بھی بار بار سامنے آئے۔ مگر مسلمان ان سے کوئی دعوتی فائدہ حاصل نہ کر سکے خاندان ہسبیس برگ (Hapsburgs) ایک زمانہ میں آسٹریا و ہنگری پر حکومت کرتا تھا۔ ترکی کے سلطان سلیمان اعظم (۱۵۶۶-۱۵۲۰) کے زمانہ میں اس کے تخت پر شہنشاہ چارلس پنجم (Charles V) حکمراں تھا۔ اس وقت وہ یورپ کا سب سے بڑا فرماں روا تسلیم کیا جاتا تھا۔ یورپ کے نصف سے زیادہ حصہ پر اس کی سلطنت پھیل چکی تھی۔ اس حکومت کے تعلقات فرانس سے اچھے نہ تھے۔ فرانس کی یہ کوشش تھی کہ اس وسیع سلطنت کو مغرب کی سمت بڑھنے سے روکے۔ اسی طرح مشرق میں عثمانی سلطنت، ہسبیس برگ حکمرانوں کے لئے سدراہ بنی ہوئی تھی۔ فرانس نے محسوس کیا کہ وہ اور سلطنت عثمانیہ دونوں ہسبیس برگ کے مشترک حریف ہیں۔ اس نے اپنے محاذ کو مضبوط کرنے کے لئے سلطنت عثمانیہ سے تعلقات بڑھانا چاہا۔ چنانچہ فرانس کی حکومت نے ۱۵۳۴ء میں اپنے سفیر کو قسطنطنیہ بھیج کر خود ہی اس کی طرف پہل کی۔ دونوں میں اچھے سیاسی تعلقات قائم ہوگئے ۔ ایک سال بعد جب شاہ فرانس (Francis I) اور شاہ چارلس پنجم میں جنگ چھڑی تو فرانس نے سلطان سلیمان سے مدد کی درخواست کی۔ سلطان سلیمان نے اس جنگ میں نہ صرف فرانس کی فوجی مدد کی بلکہ اس سے دوستی اور تجارت کا معاہدہ بھی کر لیا۔ اس معاہدہ کے مطابق فرانسیسیوں کو صرف پانچ فی صد محصول کے معاوضہ میں تمام ترکی بندرگاہوں سے تجارت کرنے کی اجازت ملی تھی۔ فرانسیسی تاجروں کے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page