Al-Risala · June 1979 · page 24

جو اس لئے عمل کرتے ہیں کہ انہیں کہا جائے

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۲۴

جس اسلام سے کوئی دل چسپی نہیں جس سے خدا خوش ہوتا ہو، جس سے آخرت کا انعام ملنے والا ہو۔ ایسے لوگوں کی ظاہری کامیابیاں اکثر انہیں دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ مگر انہیں اس حدیث رسول کو نہ بھولنا چاہئے جس کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ کے صحابی بے ہوش ہو گئے تھے :

عن ابی ہریرة رضی الله قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ان اول الناس يقضى يوم القيامة علیہ رجل استشهد فأتی به فعرفه نعمه فعرفها، قال: فما عملت فيها؟ قال: قاتلت فيك حتى استشهدت، قال: كذبت و لكنك قاتلت لأن يقال جری فقد قيل، ثم أمر به فسحب على وجهه حتى القى في النار، ورجل تعلم العلم وعلمه وقرأ القرآن، فأتی به فعرفه نعمه فعرفها، قال: فما عملت فيها؟ قال: تعلمت العلم وعلمته، وقرأت نيك القرآن، قال: كذبت ولكنك تعلمت ليقال عالم، وقرأت القرآن ليقال قاری فقد قيل، ثم أمر به فسحب علی وجهه حتى القى في النار، ورجل وسع الله عليه وأعطاه من اصناف المال فأتی به فعرفه نعمه فعرفها، قال: فما عملت فيها؟ قال: ما تركت من سبيل تحب ان ينفق فيها الا أنفقت فيها لك، قال: كذبت ولكنك فعلت ليقال هو جود نقد قيل، ثم أمر به فسحب على وجهه ثم القى في النار، (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: قیامت کے دن سب سے پہلے جس کا فیصلہ کیا جائے گا وہ شخص ہے جو شہید ہوا۔ اس کو لایا جائے گا۔ اللہ اس کو اپنی نعمتیں بتائے گا۔ وہ ان کا اقرار کرے گا۔ اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا عمل کیا۔ وہ کہے گا میں نے تیری راہ میں جنگ کی یہاں تک کہ میں شہید ہو گیا۔ اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا۔ بلکہ تو نے اس لئے جنگ کی تاکہ کہا جائے کہ تو بہادر ہے۔ سو کہا جا چکا۔ پھر حکم ہو گا اور اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس شخص کو بلایا جائے گا جس نے علم دین سیکھا اور اس کی تعلیم دی اور قرآن کو پڑھا۔ اللہ اس کو اپنی نعمتیں بتائے گا وہ ان کا اقرار کرے گا۔ اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا عمل کیا۔ وہ کہے گا میں نے علم دین سیکھا اور سکھایا اور تیری راہ میں قرآن پڑھا۔ اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا۔ بلکہ تو نے علم اس لئے سیکھا تاکہ تو عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا تا کہ تجھ کو قرآن پڑھنے والا کہا جائے‘ سو کہا جا چکا۔ پھر حکم ہوگا اور اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس شخص کو بلایا جائے گا جس کو اللہ نے وسعت دی تھی اور مال عطا کیا تھا۔ اللہ اس کو اپنی نعمتیں بتائے گا۔ وہ ان کا اقرار کرے گا۔ اللہ فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے ساتھ کیا عمل کیا۔ وہ کہے گا میں نے ان کو تیرے پسندیدہ راستوں میں خرچ کیا۔ اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا۔ بلکہ تو نے اس لئے خرچ کیا کہ تجھ کو سخی کہا جائے۔ سو کہا جا چکا۔ پھر حکم ہوگا اور اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے۔

یہ ان لوگوں کا حال ہے جنہوں نے دین کے نام پر جان دی، دین کی خدمت میں اپنی زندگیاں لگائیں۔ دین کے نام پر اپنے مال کو خرچ کیا۔ مگر یہ سب کچھ انھوں نے نمائش کے جذبہ کے تحت کیا۔ اس لئے وہ خدا کے یہاں مقبول ٹھہرے اور جہنموں میں داخل کر دیئے گئے۔ پھر ان لوگوں کا قیامت کے دن کیا حال ہوگا جنھوں نے دین کو تجارت بنایا جنھوں نے دین کے نام پر دنیا کمائی۔ جو دین کو دینے کے بجائے صرف دین سے لیتے رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page