جب موت آدمی کے ذہنی طلسم کو توڑ دے گی
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۲۵
جب موت آدمی کے ذہنی طلسم کو توڑ دے گی
ایران میں فروری ۱۹۷۹ء میں شاہ مخالف عناصر غالب آگئے ۔ اس کے بعد خفیہ انقلابی عدالتیں قائم ہوئیں جنہیں سماعت کے بعد ان افسروں کو گولی مار کر ہلاک کیا جانے لگا۔ جنھوں نے شاہ کے حکم کی تعمیل میں شاہ مخالف عناصر کو کچلنے کی کوشش کی تھی۔ اس سلسلہ میں جو خبریں آرہی ہیں ان میں بڑی عبرت کا سامان ہے۔
جنرل ربیع شاہ کی خفیہ پولیس ساواک ( SAVAK ) میں اعلیٰ افسر تھے۔ ۹ اپریل ۱۹۷۹ء کو تہران میں ان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ایران کی نئی انقلابی حکومت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔ رائٹر کے مطابق انھوں نے اپنے بیان میں عدالت سے کہا:
I am sorry I served somebody until it was too late to discover he was nothing. مجھے افسوس ہے کہ میں شاہ ایران کے احکام کی تعمیل کرتا رہا۔ میں اس کے بے حقیقت ہونے کو صرف اس وقت جان سکا جب کہ اس کو جاننے کا وقت نکل چکا تھا ۔ یہی صورت زیادہ بڑے پیمانہ پر موت کے وقت پیش آتی ہے۔ آدمی اپنی خواہشوں کے پیچھے دوڑتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ موت کا وقت آجانا ہے۔ اس وقت اس کی آنکھ کھلتی ہے۔ اب اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جن خوش نما خیالات اور خوب صورت الفاظ کے سہارے وہ جی رہا تھا ان کی کوئی حقیقت نہ تھی۔ موت کے جھٹکے کے بعد اچانک وہ ہوش میں آجاتا ہے۔ مگر اب اس کا ہوش میں آنا بے کار ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ بدلہ پانے کا وقت ہوتا ہے نہ کہ عمل کرنے کا۔
اسی طرح، رائٹر کے مطابق، ایک اور ملزم جنرل خواجہ نوری نے عدالت کے سامنے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا: Because of the heavy censorship, I was unaware of the real situation خبروں پر بھاری سنسر قائم ہونے کی وجہ سے میں حقیقی صورت حال سے بالکل بے خبر رہا۔ آخرت کے اعتبار سے بھی انسان کا حال یہی ہے۔ آدمی اپنے خیالات میں اس طرح گم رہتا ہے کہ اس کو باہر کے حقائق دکھائی نہیں دیتے۔ وہ اپنی خواہشات کے خول میں بند رہتا ہے۔ وہ لفظی توجيهات وضع کرتا ہے اور ان کے سہارے جیتا رہتا ہے۔ وہ اپنے مطابق حق اور ناحق کا ایک خود ساختہ ڈھانچہ گھڑتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے حسب حال پا کر خوش ہوتا رہتا ہے۔ وہ اپنی خوش خیالیوں اور دنیوی کامیابیوں کے مطابق اپنے گرد ایک فرضی ہالہ بنا لیتا ہے اور اس کے اندر اس طرح صبح و شام کرتا رہتا ہے جیسے وہ ابدی حصار میں آگیا ہے، آدمی اسی طرح اپنی زندگی کے دن گزارتا رہتا ہے، یہاں تک کہ موت آکر اس کے ذہنی فریب کا پردہ پھاڑ دیتی ہے۔ اب اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جس فکری گھروندے میں جی رہا تھا وہ فرضی طلسمات کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ وہ جن الفاظ کو لکھ اور بول رہا تھا وہ معانی سے بالکل خالی تھے۔ وہ جن کاموں میں مشغول تھا وہ عالم آخرت کے اعتبار سے کوئی قیمت نہ رکھتے تھے۔ جن مشاغل پر اس نے خدا اور اسلام کا بورڈ لگا رکھا تھا وہ محض اس کی ایک ذاتی تجارت تھی۔ وہ صرف اپنی اتا کی تسکین کے لئے متحرک تھا نہ کہ حقیقتاً خدا کی رضا کے لئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues