Al-Risala · June 1979 · page 26

ضمیر۔ دنیا میں خدا کی عدالت ہے

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۲۶

ضمیر۔ دنیا میں خدا کی عدالت ہے

مرحوم ذوالفقارعلی بھٹو کو قتل کے الزام میں راولپنڈی جیل میں پھانسی دے مل گئی۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم واجب القتل تھے یا یں، اس میں دنیا کے علماء قانون کی دو رائیں ہیں۔ تاہم اس میں دورائے نہیں کہ پاکستان کے علمبرداران اسلام نے ۴ اپریل کی رات کو اس شخص کو قتل کر دیا جس کا نام ’’ذوالفقارعلی بھٹو‘‘ تھا۔ اس سلسلے میں ہم پاکستان کے علمبرداران اسلام سے صرف ایک بات کہنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ اصل مسئلہ دنیا کا نہیں بلکہ آخرت کا ہے۔ اگر فی الواقع آپ کے اس اقدام کا مقصد انصاف کے تقاضے پورا کرنا تھا تو اللہ کے یہاں آپ کے لئے اجر ہے۔ اور اگر یہ ایک قانونی ڈراما تھا جو سیاسی مقصد کے لئے کھیلا گیا تو آپ کو ڈرنا چاہئے کہ کل قائم ہونے والی بڑی عدالت میں آپ خدا کو کیا جواب دیں گے۔

ہم آپ سے گزارش کریں گے کہ آپ اپنا احتساب کر کے دیکھیں کہ آپ کہاں کھڑے ہوئے ہیں۔ تنہائی کے وقت میں جب نہ کوئی آپ کے آگے ہو اور نہ پیچھے، نہ کوئی دائیں ہو اور نہ کوئی بائیں ۔ بس آپ ہوں اور آپ کا خدا ہو۔ ایسے عالم میں آپ اپنے کو بے پردہ کر کے دیکھیں کہ اس پھانسی کا محرک آپ کے لئے کیا تھا۔ کیا یہ کہ ایک بے گناہ انسان کے قاتل کو اس کے قتل کی سزا دی جائے۔ یا اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ کام کر رہا تھا کہ ایک سیاسی حریف جس کے متعلق آپ جان چکے تھے کہ الیکشن کے میدان میں آپ اس کو شکست نہیں دے سکتے، اس کو قتل کر کے ہمیشہ کے لئے سیاست کے میدان سے ہٹا دیں۔ خواہ اس مقصد کے لئے ایک عدالتی ڈراما ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

تنہائی کا احتساب جس میں آپ کا دل لرز رہا ہو اور آخرت کے خوف سے آپ کی پلکیں بھیگ گئی ہوں، اگر آپ کو بتائے کہ آپ نے صرف ایک ’’قاتل‘‘ کو اس کے قتل کے جرم کی سزا دینے کے لئے ایسا کیا ہے، اس میں کوئی سیاسی جذبہ شامل نہیں ہے تو بلاشبہ آپ اللہ کے نزدیک بری الذمہ ہیں۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو کہ اپنا احتساب کرتے وقت آپ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جائیں۔ آپ کو ایسا محسوس ہو کہ آپ کی اندرونی آواز آپ کی زبان سے بولے ہوئے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہی ہے تو سمجھ لیجیے کہ خدا کے گواہ کی گواہی آپ کے خلاف ہے۔ آپ سے اتنا بڑا جرم ہو گیا ہے کہ آخرت میں ہمالیہ پہاڑ کے برابر سونا دے کر بھی آپ اپنے کو بری الذمہ نہ کرا سکیں ۔ اس دن نہ کسی جنرل کو اس کی مسلح فوج بچانے والی ثابت ہوگی اور نہ کسی اسلام پسند کو کوئی فوجی حکمراں ۔ آج کے تمام با معنی الفاظ اس وقت بے معنی ہو جائیں گے ۔ آج کے تمام ساتھی اس دن ساتھ چھوڑ دیں گے۔ حتی کہ وہ لوگ بھی جو آج آپ کو مبارک باد کے تاریخ رہے ہیں۔

باہر کے جن لوگوں نے اس کارروائی کی تائید کی، ان کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ وہ اپنے اندر جھانک کر دیکھیں۔ اگر وہ پائیں کہ ان کی تائید صرف اس لئے تھی کہ قاتل کو اس کے قتل کی سزا ملے تو اللہ کے یہاں ان کے لئے اجر ہے ۔ اور اگر اس کے پیچھے دوسرے محرکات کام کر رہے ہوں تو وہ بھی یکساں طور پر اس ذمہ داری میں شریک ہیں۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے : اذا عملت الخطيئة في الارض ۔ ۔ من غاب عنها فرضيها كان كمن شهدها (ابوداؤد)

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page