Al-Risala · June 1979 · page 31

ذہنی کھول : سب سے بڑی رکاوٹ

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۳۱

ذہنی کھول : سب سے بڑی رکاوٹ

وقال الذين كفروا للذين آمنوا لوكان خيرا انکار کرنے والے لوگ ماننے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ما سبقونا اليه ط واذ لم يهتدوابه فسيقولون قرآن اگر کوئی اچھی چیز ہوتی تو اس کو قبول کرنے میں یہ لوگ هذا افك قديم (احقاف (۱۱) ہم سے آگے نہ نکل جاتے۔ جب نہ اس کے بتانے سے راہ پر نہیں آئے تو اب وہ کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔

کسی معاشرے میں جب حق کی آواز بلند ہوتی ہے تو عام طور پر وہ لوگ اس کی طرف کھنچتے ہیں جو کسی نہ کسی قسم کی کمی سے دوچار ہوں اور اپنے اندر خلا محسوس کرتے ہوں۔ ان کا اندرونی خلا کا احساس ان کے لئے ایک مددگار قوت بن جاتا ہے اور وہ کسی حجاب یار کاوٹ کے بغیر حق کو پالیتے ہیں اور اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔

اس کے برعکس وہ لوگ جن کی عزت وشہرت کے کھونٹے گڑے ہوئے ہوں، جو فتح وکامرانى کے احساس میں مگن ہوں، جن کی تمام ضرورتیں بافراط پوری ہو رہی ہوں، جن کو ہر طرف اپنے لئے میدان کھلے ہوئے نظر آتے ہوں۔ ایسے لوگوں کے اندر ایک قسم کی قناعت پیدا ہو جاتی ہے، وہ اپنے سے باہر کسی آواز کو اپنانے کی ضرورت نہیں کرتے۔ حق کی آواز کو قبول کرنے میں سب سے زیادہ پیچھے وہ لوگ رہتے ہیں جن کو روایتی مذہبی نظام میں بڑی بڑی گدیاں حاصل ہوگئی ہوں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو اسلاف کا جانشین کہا جاتا ہے۔ مذہب کی نمائندگی کے اسٹیج پر وہ تقریری کمال دکھار ہے ہوتے ہیں، صدارت اور استقبال کے اعزازات ہر جگہ ان کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ہدیے اور نذرانے کی رئیس ان کے پاس اس طرح آنے لگتی ہیں گویا وہ مذہبی شہزادے ہیں اور ساری قوم ان کی باج گزار ہے۔ یہ صورت حال ان کے اور ان کے پیروؤں کے اندر یہ جھوٹا یقین پیدا کر دیتی ہے کہ وہی حق پر ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ حق کی آواز کی طرف نسبتاً کمتر درجہ کے لوگ بڑھ رہے ہیں، اور وہ اپنے اندر اس کے لئے کشش نہیں پاتے، تو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ حق نہیں ہے۔ اگر وہ حق ہوتا تو لازم تھا کہ وہ سب سے پہلے ان کو اپنی طرف کھینچتا۔ خدا کو پانے کی واحد قیمت اپنی ذات کی نفی ہے۔ اپنی نفی کے بعد ہی خدا کا اثبات ہوتا ہے۔ خداظاہر کو نہیں باطن کو دیکھتا ہے۔ وہ ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوتا ہے۔ وہ ان سینوں میں اترتا ہے جنہوں نے غیر خدائی چیزوں سے اپنے کو پوری طرح خالی کر لیا ہو۔ جب آدمی اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں وہ خدا کا ہم صحبت بن سکے تو یہ وقت وہ ہوتا ہے جب کہ وہ ان دنیوی زخارف سے خالی ہو چکا ہوتا ہے جو انسانوں کی نظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ جن کی نظر میں دنیا کی چمک دمک سے اوپر نہ اٹھی ہوں وہ ان کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے ۔ ایسے انسان کو وہ حق کا علبردار سمجھنے کے بجائے ایک سرپھرا آدمی سمجھ لیتے ہیں۔ وہ اپنی "گدیوں" پر بیٹھے ہوئے نہایت اطمینان سے کہہ دیتے ہیں : برخود غلط قسم کے لوگ ہمیشہ اس قسم کا ڈھونگ کھڑا کرتے رہتے ہیں، یہ بھی اسی فہرست میں ایک اضافہ ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page