Al-Risala · June 1979 · page 26

ذہنی کھول : سب سے بڑی رکاوٹ

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۲۶

آخرت میں اللہ کا دھیان سامنے آجائے گا۔ مگر موجودہ دنیا میں اللہ پر اس حال میں ایمان لانا ہے کہ وہ حالتِ غیب میں ہے۔ یہاں خدا کی نشانیوں سے خدا کو پہچاننا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس دنیا میں خدا دلیل اور برہان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ آیات اللہ پر غور کرو۔ اللہ کی آیتوں کو ماننا خدا کو ماننا ہے۔ اور اللہ کی آیتوں کا انکار کرنا خدا کا انکار کرنا ہے، آیات کیا ہیں۔ یہ خدا کو پہچاننے کے دلائل ہیں جو کبھی فطرت کے اشاروں میں اور کبھی وحی کے الفاظ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

صحیح دلیل خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہوتی ہے۔ اس کی صحت کو پا لینا خدا کو پا لینا ہے اور اس کے آگے جھکنا خدا کے آگے جھک جانا۔ صحیح دلیل سامنے آنے کے بعد جو شخص جدال کرے، جو اپنی دولت اور وجاہت کے گھمنڈ میں اس کو نظر انداز کردے، وہ گویا خدا کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس کے پاس خدا خود آیا مگر اس نے خدا کا استقبال نہ کیا۔

پیغمبروں نے خدا کی طرف سے حق کی آواز بلند کی۔ مگر وقت کے غالب لوگوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کی بڑی وجہ ان کی خود فریبی تھی۔ چوں کہ وہ وقت کی معاشیات پر قابض تھے۔ اقتدار کے اداروں میں ان کو رتبہ حاصل تھا۔ اعوان و انصار کی بھیڑ ان کے گرد جمع تھی۔ اس بنا پر ان کے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہو گیا کہ وہ حق پر نہیں ہیں۔ جب انھوں نے دیکھا کہ جس چیز کو حق کہا جاتا ہے اس کا انکار کرنے سے ان کا کچھ نہیں بگڑا۔ ان کا دبدبہ بدستور قائم ہے، ان کے مواقع پھر بھی کھلے ہوئے ہیں اور ان کے دنیوی کام اس کے باوجود بن رہے ہیں تو وہ ایک قسم کے نفسیاتی فریب میں مبتلا ہو گئے۔ وہ دائمی حق کے مقابلہ میں اپنی کامیابیوں کو دیکھ کر دھوکے میں پڑ گئے۔ وہ سمجھنے لگے کہ ”جب میں کامیاب ہوں تو یقیناً میں ہی حق پر ہوں“ ظاہری کامیابی کسی کے برحق ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔ مگر ظاہری کامیابی اکثر آدمی کو خود فریبی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ آدمی کا رب بعض اوقات اس کو وقتی اور ظاہری کامیابی اس لئے دے دیتا ہے کہ اس کے ذریعہ سے وہ اس کو آزمائے۔ وہ دیکھے کہ کیا وہ اپنی کامیابیوں کو دیکھ کر دھوکے میں پڑ جاتا ہے۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے ذہنی خول میں اپنا ایک گھروندا بنا لیتا ہے اور اسی کے اندر جینے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس کے خیالی گھروندے کا حقیقت کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ اپنے خود ساختہ گھروندے کے خانہ میں چوں کہ اس کو اپنی ذات درست نظر آتی ہے، اس لئے وہ سمجھ لیتا ہے کہ فی الواقع بھی وہ درست اور صحیح ہے۔

خدا زمین و آسمان کی خاموش زبان میں بولتا ہے۔ وہ اپنے چنے ہوئے بندوں کے ذریعہ اپنی بات کا اعلان کرتا ہے وہ انسان کے ضمیر میں داخل ہو کر حقیقت کا آئینہ اس کے سامنے کر دیتا ہے۔ مگر انسان اپنی جھوٹی خوش گمانیوں کی وجہ سے ان پر دھیان نہیں دیتا۔ خدا اس کو سچائی کی جھلک دکھاتا ہے۔ مگر وہ اپنے نفسیاتی بندھنوں کو توڑ کر اس کی طرف نہیں دوڑتا۔ خدا کا حسین روپ اس کے سامنے کھولا جاتا ہے۔ مگر وہ اس کی قدر دانی کا حق ادا نہیں کرتا۔ موت ان جھوٹی خوش گمانیوں کے طلسم کو توڑ دے گی ۔ اس وقت آدمی کو معلوم ہوگا کہ وہ جہنم کے کنارے کھڑا ہوا تھا اگرچہ وہ اپنے آپ کو جنت کا مالک سمجھ رہا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page