بگاڑ کا سبب کیا ہے
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۳۴
بگاڑ کا سبب کیا ہے
دنیا میں بگاڑ کیوں ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ یہاں کوئی ایسی طاقت نہیں جو لوگوں کو صدفی صد اپنی گرفت میں لے سکے۔ ہر طاقت، خواہ وہ حکومت اور قانون کی ہو یا کوئی اور، اس کی گرفت انسانی زندگی میں ایک حد پر جاکر ختم ہو جاتی ہے اس کے بعد آدمی کا اپنا ارادہ شروع ہو جاتا ہے۔ آدمی کو صدفی صد اپنی گرفت میں لینے والا دو میں سے کوئی ایک ہی ہو سکتا ہے اللہ یا آدمی کا اپنا ارادہ۔
آخرت اللہ کی گرفت کے ظہور کا مقام ہے۔ اور دنیا انسانی ارادہ کی گرفت کا امتحان ہے۔ آخرت میں تمام انسان براہ راست خدا کی مکمل گرفت میں آ جائیں گے۔ کسی کو ادنیٰ درجہ میں بھی ذاتی اختیار باقی نہیں رہے گا۔ یہی کیفیت موجودہ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ جو واقعہ آخرت میں براہ راست خدا کی طرف سے ہونے والا ہے، اسی کو دنیا میں خود اپنے ارادہ سے اپنے اوپر طاری کرنا ہے۔ اسی کا نام ایمان ہے۔ جنت اسی کے لئے ہے جو دنیا کی زندگی میں اپنے ارادہ سے اپنے آپ کو صدفی صد اللہ کی گرفت میں دے دے۔ باقی وہ لوگ جو آخرت میں خدا کی گرفت میں آئیں، ان کا گرفت میں آنا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ وہ دن تو مالک کائنات کی طرف سے باغی اور سرکش انسانوں کی گرفتاری کا دن ہوگا۔ یہ گرفتاری صرف اس لئے ہوگی کہ ایسے لوگوں کو جہنم میں دھکیل دیا جائے۔ وہ کسی بھی درجہ میں ان کے کام آنے والی نہیں۔ اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اسلام نام ہے اپنے آپ کو حقیقت واقعہ کے مطابق بنانے کا۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اس کائنات میں ہر قسم کا اختیار و اقتدار صرف خدا کو حاصل ہے۔ انسان کو بظاہر جو اختیار حاصل ہے، وہ محض عارضی ہے اور موت آتے ہی مکمل طور پر چھن جاتا ہے۔ اللہ کے مقابلہ میں اپنی اس عاجزانہ حیثیت کو موت سے پہلے مان لینا اور اپنے آپ کو ہمہ تن اس پر ڈھال لینے کا نام اسلام ہے۔ جس نے حالت غیب میں اپنے ارادہ سے ایسا کر لیا وہ جنتی ہے اور جو خدا کے ظاہر ہونے کے بعد اس کا اعتراف کرے اس کے لئے ابدی رسوائی کے سوا اور کچھ نہیں۔ یوم نقول لجھنم هل امتلات وتقول هل من جس دن ہم دوزخ سے بھیں گے کیا تو بھر گئی۔ وہ بولے مزید - وازلفت الجنة للمتقين غير گی کچھ اور کہی ہے۔ اور جنت ڈر والوں کے قریب بعيد - هذا ما توعدون لكل اواب حفيظ لائی جائے گی کہ کچھ دور نہ رہے گی۔ یہ ہے جس کا وعدہ من خشى الرحمن بالغيب وجاء بقلب منيب تھا ہر ایک رجوع کرنے والے یاد رکھنے والے سے۔
ادخلوها بسلم ذلك يوم الخلود - لهم ما جو ڈرا اللہ سے بن دیکھے اور لایا دل جس میں رجوعراً ہے ۔ جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ یہ دن ہے ہمیشہ رہنے کا۔ ان کو جنت میں سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس زیادہ بھی ہے۔
يشاءون فيها ولدينا مزيد (ق ۳۵ - ۳۰)
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues