خدا کی ایک سنت یہ بھی ہے
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۳۳
خدا کی ایک سنت یہ بھی ہے
جب کسی قوم میں کوئی پیغمبر آتا ہے اور وہ قوم اس کی بات ماننے پر تیار نہیں ہوتی، تو خدا کی طرف سے ان کو بعض مشکلوں میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ ان میں قبولیت کا مادہ پیدا ہو۔ "اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف رسول بھیجے تھے، پھر (جب انھوں نے نہیں مانا تو ہم نے ان کو سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ ڈھیلے پڑ جائیں۔ " (انعام) اس قسم کے بعض واقعات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی پیش آئے ہیں (مومنون - ۷۶) صحیحین میں عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبوت کے چند سال بعد جب مکہ والوں کی مخالفت اور سرکشی بہت بڑھ گئی تو تو آپ نے دعا فرمائی :
خدایا ان کے مقابلہ میں میری مدد یوسف کے سات سالہ قحط جیسے سات برسوں سے کر۔
اللہ نے دعا قبول فرمائی اور ایسا شدید کال پڑا کہ لوگ ہڈیاں اور چمڑا اور مردار تک کھانے پر مجبور ہو گئے۔ اس زمانہ میں یہ حال تھا کہ جب ایک شخص آسمان کی طرف نظر اٹھاتا تو بھوک کی شدت کی وجہ سے اس کو اوپر دھواں ہی دھواں دکھائی دیتا تھا۔ آخر ابو سفیان نے آکر آپ سے کہا کہ آپ تو دراب رحمی کی دعوت دیتے ہیں۔ آپ کی قوم بھوکوں مر رہی ہے۔ اللہ سے دعا کیجئے کہ اس مصیبت کو ہم سے دور کر دے۔ قریش کے لوگ عام طور پر کہنے لگے کہ خدایا ہم پر سے یہ عذاب دور کر دے تو ہم ایمان لائیں گے (دخان ۱۲) اللہ نے اپنے پیغمبر کی دعا قبول کی اور قحط کے حالات ختم ہو گئے۔ مگر ان کی سرکشی اس کے بعد بھی جاری رہی۔ یہاں تک کہ بدر کی جنگ کی شکل میں وہ پکڑ لئے گئے (دخان ۱۶) قرآن کی سورہ نمبر ۵۲ میں کہا گیا ہے :
بلاشبہ ظالموں کے لئے آخرت سے پہلے بھی عذاب ہے۔ مگر ان میں سے اکثر اس کو نہیں جانتے۔ (طور - ۴۷) مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ظالمانہ روش اختیار کرتے ہیں، ان کو آخرت کے رسوا کن عذاب سے پہلے دنیا میں تنبیہی عذاب دئے جاتے ہیں۔ یہ دنیوی عذاب اس لئے ہوتا ہے کہ ان کے ظلم کی ہلکی سی سزا انھیں اسی دنیا میں دی جائے تاکہ وہ اس سے سبق لے کر اپنی اصلاح کر لیں (لين يذيقهم بعض الذي عملو ا لعلهم يرجعون) مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب اس قسم کی کوئی دنیوی سزا ان کو ملتی ہے تو فوراً اُس کی تاویل کر لیتے ہیں۔ وہ اس کو کسی عام سبب کا نتیجہ قرار دے کر اپنے لئے تسکین حاصل کر لیتے ہیں کہ یہ ان کی ظالمانہ روش کی خدائی سزا نہیں ہے بلکہ اس کے اسباب کچھ اور ہیں۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس لئے یہاں جو بھی خدائی نشانی یا سبق ظاہر کیا جاتا ہے وہ معمولی واقعات کے پردہ میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ پردہ داری دوبارہ لوگوں کے لئے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ اس کو خدا کی طرف سے نہیں سمجھتے بلکہ ایک معمولی واقعہ سمجھ لیتے ہیں۔ جو وجہ "انسانی پیغمبر" کے انکار کی تھی، اسی بنا پر وہ ایک دنیوی واقعہ کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues