Al-Risala · January 1979 · page 38

با مقصد زندگی

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۳۸

اپنائے، ضروری ہے کہ وہ اپنی عملی زندگی اور اپنی روزانہ کی سرگرمیوں کو اپنے مقصد کے ساتھ ہم آہنگ رکھے۔ وہ دونوں میں کوئی تضاد پیدا نہ ہونے دے۔ با مقصد آدمی ایک باشعور آدمی ہوتا ہے۔ اگر اس کے اندر حقیقت ایک مقصد اترا ہوا ہے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو ایسے عملی حالات اور ایسے مشاغل کی طرف نہ لے جائے جہاں وہ اور اس کا مقصد الگ الگ ہو جائیں۔ جب وہ ویسا بنکر نہ رہ سکے جیسا اپنے مقصد کے اعتبار سے اسے بن کر رہنا چاہئے۔

میں ایک ایسے مسلم خاندان کو جانتا ہوں جس کی آمدنی اتنی تھی کہ وہ معقول طریقے سے ایک سادہ زندگی گزار رہا تھا اور اسی کے ساتھ دین کے تقاضے بھی پورے کر رہا تھا۔ اس کے بعد اس کے یہاں ایک لڑکی اور ایک لڑکے کی شادی ہوئی۔ اس کے مقصد کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ شادی کو اس طرح کرے کہ اس کی وجہ سے اس کے گھر میں معمول کے مطابق جوزندگی چل رہی ہے اس میں کوئی خلل پیدا نہ ہو۔ مگر اس نے پہلی غلطی یہ کی کہ شادی کے لئے ایک ایسے خاندان کا انتخاب کیا جس کا معیار زندگی اس کے مقابلے میں بڑھا ہوا تھا۔ پھر شادی بھی اس طرح کی جیسے عام دنیا دار لوگ اپنی شادیاں کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف اس کے گھر کا سارا سرمایہ شادی میں لگ گیا بلکہ وہ کافی مقروض بھی ہو گیا۔ اس کے پیچھے اس کا سارا کاروبار اجڑ گیا۔ اگر صرف اتنا ہی نقصان ہوا ہوتا جب بھی غنیمت تھا، کیوں کہ جس طرح مختلف قسم کے دستی حادثے آدمی کے اوپر پڑتے ہیں اور پھر وہ سنبھل جاتا ہے، اسی طرح وہ دوبارہ سنبھل جاتا۔ مگر شادی نے اس کو ایک نئی مصیبت میں ڈال دیا۔ جس کا پچھلے اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اپنی لڑکی کو اس نے جو کپڑے اور سامان دیئے اور سسرال سے اس کے لئے جو کپڑے وغیرہ آئے، اس کی وجہ سے شادی شدہ لڑکی کی پوشش اور رہن سہن کا معیار یکایک بہت بڑھ گیا اور جب گھر کی ایک لڑکی کا معیار بڑھا تو اس کے ساتھ دوسروں کا لحاظ کرنا ضروری تھا۔ پھر اسی کے ساتھ نے فرنیچر سے لدی ہوئی پوری ایک گاڑی بھی اس کے گھر اتری ان چیزوں کے نتیجہ میں اس کی گھریلو زندگی کا معیار بالکل مصنوعی طور پر یکایک بدل گیا۔ اب ہر چیز میں پہلے سے زیادہ خرچ ہونے لگا۔ اس طرح ایک طرف پہلے قرضوں کی ادائیگی اور دوسری طرف بڑھے ہوئے اخراجات کو پورا کرنا، ایسے دو پاٹ بن گئے جن کے نیچے اس کی زندگی پس کر رہ گئی ، اس کا گھر دیکھتے دیکھتے ایک دیندار گھر آنے سے ایک دنیا دار گھر آنے میں تبدیل ہو گیا۔

یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے۔ بلکہ میں نے کتنے لوگوں کو دیکھا ہے کہ اسی طرح وہ اپنے دنیوی معاملات میں ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ بالاخر وہ انھیں گھسیٹ کر تباہی کے غار میں پہنچا دیتا

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page