با مقصد زندگی
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۲۷
میں ایک ایسے زمانے میں ان سے ملنے گیا جب وہ اپنا نیا مکان بنوانے میں مصروف تھے۔ میں نے دیکھا کہ ان کے پائجامہ میں ایک جگہ بہت سے لال لال دھبے پڑے ہوئے ۔ پوچھا یہ کیا ہے انھوں نے دیکھ کر کہا مجھے خود بھی نہیں معلوم۔ اس کے بعد انھوں نے پائجامہ اٹھایا تو معلوم ہوا کہ اسی سخت چیز سے ٹکرانے کی وجہ سے ٹانگ میں ایک جگہ چوٹ لگ گئی ہے۔ چوٹ لگ کر خون بہا، کپڑے میں لگا، پھر خود بخود سوکھ کر بند ہوگیا۔ اور انھیں مطلق خبر نہیں ہوئی۔ جب آدمی کے سامنے کوئی مقصد ہو تو وہ اسی طرح اس میں منہمک ہو جاتا ہے۔ اس وقت وہ ایک اور ہی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں دوسری چیزیں اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔ جہاں دوسری چیزیں اسے محسوس نہیں ہوتیں، حتیٰ کہ خود اپنی ذات کے جسمانی تقاضے بھی بعض اوقات اسے یاد نہیں رہتے۔ یہی وہ بات ہے جس کو میں نے "ارتکاز" کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ بامقصد آدمی وہی ہے جس کو اپنے مقصد میں اس درجہ شغف اور انہماک ہو جائے۔ اس کے بغیر اپنے آپ کو بامقصد آدمیوں کی فہرست میں دیکھنا، مقصد کے لفظ سے ایک طرح کا مذاق کرنا ہے۔
۲۔ بامقصد آدمی کی دوسری پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کے مطابق زندگی گزارتا ہو ۔ مقصد کے مطابق عمل" سے میں ایک خاص چیز مراد لے رہا ہوں جس کو آپ ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ ایک حکیم صاحب ہیں جو ایک دیہات میں دوا علاج کا کام کرتے ہیں وہ کوئی سند یافتہ طبیب نہیں ہیں نہ پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ بس لوگوں کی صحبت اور تجربہ کی وجہ سے کچھ باتیں جان گئے ہیں اور اس کے مطابق کام کر رہے ہیں بلکہ اپنی محنت اور توجہ کی وجہ سے اپنے علاقہ میں اچھے خاصے متعارف بھی ہو گئے ہیں۔ انکے گھر پر کچھ کھیتی باڑی کا کام بھی ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ انھوں نے کہا کہ میں کھیتی کے موٹے کام مثلاً کھودنا، ہل چلانا وغیرہ اپنے ہاتھ سے نہیں کرتا۔ آپ سمجھیں گے وہ شاید کوئی شیروانی پوش آدمی ہونگے اور اپنی شیروانی کی عزت رکھنے کے لئے ایسے کاموں سے بچتے ہوں گے مگر ان کو "شیروانی" اور "پتلون" کی زندگی سے کوئی دل چسپی نہیں۔ وہ بالکل سیدھے سادے دیہاتی حکیم ہیں۔ کھیتی کے سخت کاموں سے الگ رہنے کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ اگر میں اس طرح کے کام کروں تو میرا ہاتھ سخت ہو جائے گا۔ انگلیوں کی کھال موٹی ہو جائے گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مریض کی نبض میں ٹھیک طرح سے دیکھ نہ سکوں گا۔ نبض کی ضرب میں ہلکی ہوتی ہیں اور ان میں بہت نازک اور لطیف فرق ہوتے ہیں۔ ان کو محسوس کرنے کے لئے انگلیوں کا نرم ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر انگلیاں ہل اور کدال پکڑاتے پکڑتے سخت ہو جائیں، جیسا کہ اس طرح کا کام کرنے والوں کی ہوتی ہیں، تو وہ نبض کی ضربیں محسوس کرنے کے قابل نہیں رہیں گی۔
ہر مقصد اپنے اختیار کرنے والے سے کسی کا تقاضہ کرتا ہے۔ جو شخص بھی کسی مقصد کو
‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues