Al-Risala · June 1979 · page 46

شہادت کو وہ جنت کا مختصر راستہ سمجھتے تھے

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۴۶

ابن جریر نے شعبی کے واسطے سے نقل کیا ہے، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ہرمز کے نام خط روانہ کیا، وہ ان دنوں ایران کی سرحد پر متعین تھا۔ انھوں نے لکھا :

اما بعد، ناسلم تسلم او اعتقد لنفسك قومك اما بعد، اسلام لاؤ نجات پاؤ گے۔ اسلام منظور نہیں ہے الذمة واقرر بالجزية والا فلا تلومن الا تو اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے جزیہ ادا کر دو، ورنہ اپنے نفسك فقد جئتك بقوم يحبون الموت كما سوا کسی اور کو ملامت نہ کرنا۔ کیوں کہ میں تمھارے اوپر تحبون الحياة (تاریخ طبری، جلد ۲) ایک ایسی قوم لے کر آیا ہوں جس کو موت اسی طرح محبوب ہے جس طرح تم کو زندگی۔

صحاابل کرام اللہ کی راہ میں لڑ کر شہید ہونے کو نہ صرف نجات کا یقینی ذریعہ سمجھتے بلکہ ان کو یقین تھا کہ یہ وہ عمل ہے جو جنت کے سفر کو مختصر کر دیتا ہے۔ ابوبکر بن ابو موسیٰ اشعری رضہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے باپ سے سنا۔ جنگ کا موقع تھا، دشمن سامنے تھے۔ انھوں نے کہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : ان ابواب الجنة تحت ظلال السيوف (جنت کے دروازے تلواروں کی چھاؤں میں ہیں) ایک شخص نے جو پھٹے کپڑے پہنے ہوئے تھا، کہا: اے ابو موسیٰ ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے۔ انھوں نے کہا: ہاں، وہ آدمی اسی وقت اپنے ساتھیوں میں آیا۔ ان کو سلام کیا۔ پھر اپنی تلوار کی میان توڑ ڈالی اور تلوار لے کر دشمنوں کی صف میں گھس گیا۔ وہ لڑتا رہا یہاں تک کہ مارا گیا (مسلم) جنگ بدر کے موقع پر جب دشمن بالکل قریب آگئے تو آپ نے فرمایا: قوموا الی جنة عرضها السموات والارض ایسی جنت کی طرف چلو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے) عمیر بن حمام انصاری نے کہا " آسمان و زمین جیسی چوڑی ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ ان کی زبان سے نکلا: بخ بخ (واہ واہ) آپ نے فرمایا تم نے بخ بخ کیوں کہا۔ انھوں نے جواب دیا : خدا کی قسم اس امید میں کہ شاید میں بھی جنت والوں میں ہو جاؤں ۔ آپ نے فرمایا تم ان میں سے ہو۔ انھوں نے کھجور نکالی اور کھانے لگے۔ پھر بولے : لئن انا حییت حتی آکل تمراتی هذہ انها لحياة طويلة (اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہوں تو یہ بڑی لمبی زندگی ہوگی) انھوں نے کھجوریں پھینک دیں دشمنوں میں گھس گئے اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے (مسلم) انس بن مالک کہتے ہیں کہ حرام بن ملحان رم کو جبار بن سلمی کلابی نے نیزہ مارا۔ زخم کاری تھا، جسم سے خون بہ پڑا۔ حضرت حرام کی زبان سے نکلا: اللہ اکبر! فزت و رب الکعبہ (کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا) یعنی جنت کو پانے میں (بخاری) عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ذی الحجہ ۸ ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ہزار آدمی موتہ کی طرف روانہ کئے۔ یہ لوگ سرحد شام پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہرقل ایک لاکھ یا دولاکھ رومی لشکر کے ساتھ بلقاء میں ٹھہرا ہوا ہے۔ مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ مقابلہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمنوں کی تعداد سے مطلع کیا جائے۔ عبداللہ بن رواحہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا :

یا قوم ! واللہ ان التی تكرهون للتي خرجتم تطلبون لوگو! خدا کی قسم جس چیز کو تم ناپسند کر رہے ہو، وہ وہی ہے الشهادة (البدایہ والنہایہ جلد ۴) جس کے لئے تم نکلے ہو۔ یعنی شہادت

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page