خدمت دین کی مشکلات
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۳۷
خدمت دین کی مشکلات
پندرہ سال پہلے کا ایک واقعہ مجھے یاد آرہا ہے۔ رواں نامی بستی کے باہر ایک باغ میں جماعت اسلامی کامقامی ماہانہ اجتماع ہورہا تھا۔ ظہر کا وقت تھا۔ اذان ہوچکی تھی، ایک بڑے درخت کے نیچے فرش بچھا ہوا تھا جہاں کچھ لوگ سنتیں پڑھ رہے تھے اور کچھ نماز کے وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک حادثہ پیش آیا۔ اجتماع کے بالکل قریب ایک بڑا سا گڑھا تھا جس کے عین کنارے سے راستہ گزرتا تھا۔ اس راستہ پر ایک بیل گاڑی جارہی تھی۔ جیسے ہی وہ گڑھے کے کنارے پہنچی اس کا ایک طرف کا پہیہ پھسل گیا اور پوری گاڑی کروٹ ہو کر گڑھے میں اس طرح گر گئی کہ ایک پہیہ اوپر کھڑا تھا اور دوسرا نیچے دبا ہوا تھا۔ جیسے ہی ہم میں سے کچھ لوگوں کی نظر اس پر پڑی، وہ فوراً اس کی مدد کے لئے دوڑ پڑے۔ گاڑی سامان سے لدی ہوئی تھی۔ بیل بھی اس کے ساتھ جوئے میں پھنسے ہوئے تھے۔ بظاہر سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ چند لوگ کیسے اس مسئلہ کو حل کر سکیں گے۔ مگر یہ سوچنے کا وقت نہیں تھا، بلکہ فی الفور اقدام کرنے کا وقت تھا۔ آنے والے فوراً اپنے کام میں لگ گئے۔ کچھ نے نیچے سے زور لگایا اور کچھ نے اوپر سے پکڑ کر گاڑی کو اٹھانا شروع کیا۔ میں ان خوش نصیبوں میں تھا جو گاڑی کو نیچے سے اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس کے بعد ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا۔ یکایک ہم نے دیکھا کہ گاڑی اٹھا کر اوپر رکھ دی گئی ہے۔ واقعی ایسا ہی ہوا۔ جو چند آدمی اس کام میں لگے تھے ان سب کا متفقہ احساس تھا کہ گاڑی ہم نے نہیں اٹھائی ہے، بلکہ وہ توکسی اور نے اٹھاکر کھڑی کر دی ہے۔ نیچے ہاتھ دینے والوں کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اوپر سے کوئی اس کو کھینچے چلا جارہاہے۔ اور جو لوگ اوپر تھے ان کو ایسا محسوس ہورہا تھا گویا گاڑی نیچے سے اٹھتی چلی آرہی ہے۔
یہ واقعہ جو پچھلے پندرہ سال سے میری یادداشت کا بہترین سرمایہ رہا ہے اس کو میں نے قصہ خوانی کے طور پر آپ کے سامنے پیش نہیں کیا ہے، خدا مجھ کو اس سے بچائے کہ میں قصہ خوانی کو اپنا طریقہ بناؤں اور قصے سنانے میں آپ کا وقت ضائع کروں۔ میں نے اس کو صرف اس لئے بیان کیا ہے کہ آپ اس پر غور کریں۔ کیوں کہ اس کے اندر ہمارے لئے بڑی عبرت کا سامان ہے، یہ واقعہ ہمارے لئے اس بات کا پیغام ہے کہ خدا انسانوں کی مدد کرتا ہے، یہ ہمارے لئے خدا کی مدد کا ایک ذاتی تجربہ ہے۔ تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ہم پڑھتے ہیں۔ مگر یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو ہماری اپنی زندگی میں پیش آیا ہے جس کا ہم نے براہ راست تجربہ کیا ہے۔ لدی ہوئی اور پھنسی ہوئی گاڑی کا محض چند آدمیوں کے ہاتھ لگانے سے دم بھر میں اٹھ کر کھڑی ہو جانا، یقیناً خدا کی مدد کی وجہ سے تھا۔ اگر ہم کو وہ آنکھیں حاصل ہوتیں جن سے غیر مادی حقیقتوں کو دیکھا جا سکے تو ہم دیکھتے کہ عین اس وقت جب کہ چند کمزور آدمی محض خدا کے بھروسے پر بالکل حسبتہ اللہ ایک نیک کام کے لئے دوڑ پڑے تو اسی وقت آسمان سے فرشتوں کی بھی ایک فوج اتر آئی اور اس نے آن کی آن میں وہ کام کر دیا جو ہمارے کم زور ہاتھوں سے نہیں ہو سکتا تھا۔
دوستو! اسی طرح سے ایک اور گاڑی پھنسی ہوئی ہے۔ یہ دین کی گاڑی ہے۔ اسلام کی گاڑی چلتے چلتے حالات
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues