Al-Risala · June 1979 · page 39

خدمت دین کی مشکلات

الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۳۹

سارا خزانہ اس کی مٹھی میں ہے، ناممکن ہے کہ وہ اپنے عاجز اور حقیر بندوں کو ایک کام پر مقرر کرے اور پھر ان کی ضروریات کا لحاظ نہ کرے۔ یہ اس کی صفت رحیمیت کے خلاف ہے، یہ اس کی شانِ اقتدار کے منافی ہے۔ بلاشبہ اس نے خادمانِ دین کی تمام ضروریات کا اس دنیا میں مکمل انتظام کر دیا ہے۔ ایسا انتظام کہ آخرت میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ دین کی خدمت کرنا چاہتا تھا مگر دشواریوں اور مشکلوں کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر سکا۔

یہ انتظام کیا ہے اور ہم کس طرح اسے جانیں، اس کی میں نہایت آسان صورت آپ کو بتاؤں۔ آپ خدمت دین کے کام کا ارادہ کیجئے اور اس کے بعد سوچئے کہ اس کام میں آپ کی کیا کیا ضرورتیں ہو سکتی ہیں۔ جتنی معقول ضرورتیں اور واقعی مسائل آپ کی سمجھ میں آئیں، ان سب کی ایک فہرست بنا ڈالئے اور اس کے بعد خدا کی کتاب کھول کر اس کو ابتدا سے پڑھنا شروع کیجئے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک ملازم سرکار اپنی ملازمت کے مسائل کے متعلق جاننے کے لئے حکومت کے قواعد و ضوابط کا مطالعہ کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب آپ ایسا کریں گے تو آپ کو نظر آئے گا کہ خدا کی کتاب آپ کے ہر معقول مطالبے کا قطعی اور یقینی جواب دیتی چلی جا رہی ہے۔ کسی بھی ایسی حقیقی ضرورت کا آپ تصور نہیں کر سکتے جس کا خدا کی کتاب ذمہ نہ لے رہی ہو۔ اس معاملہ میں ہرگز آپ کتاب الہی کو خاموش نہ پائیں گے۔ اس کے بعد مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ خدا کی کتاب میں ہماری کسی ضرورت کے بارے میں ایک یقین دہانی کا مل جانا اس بات کی کافی ضمانت ہے کہ ہم اس پر بھروسہ کریں۔ ایمان کا مطلب خدا پر توکل ہے اور ایمان کے لفظی معنی بھروسہ اور اعتبار ہی کے آتے ہیں (یوسف (۱) خدا پر اور قرآن پر ایمان لانے کا اصل مطلب یہی ہے۔ اس لئے اگر ہم خدا کی کتاب میں ایک یقین دہانی پالینے کے باوجود اس پر اعتماد نہ کریں تو یہ خود ہمارے ایمان کے خلاف ہوگا۔ ایسی صورت میں ہم کو خود اپنے ایمان پر نظر ثانی کرنی چاہئے نہ کہ ہم قرآن کے الفاظ پر شبہ کریں۔ ۱- آیئے ہم اس حیثیت سے قرآن کا ایک مختصر مطالعہ کریں۔ موجودہ زمانے میں دین کی خدمت کرنے کا ارادہ ہم سے کن ضرورتوں کا تقاضا کرتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایک داعی کے سامنے سب سے پہلا سوال جو آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ٹراشل کام ہے دمیں نہایت کمزور ہوں۔ خاص طور پر اس کے لئے زبان و قلم کی زبردست طاقت درکار ہے اور مجھے اس پر قدرت نہیں۔ اس کا آغاز زبان و قلم ہی سے ہوتا ہے۔ اس لئے اس اعتبار سے اپنی بے مائیگی کا احساس اور حالات کی نامساعدت کی وجہ سے پست ہمتی ــــ یہ دو چیزیں سب سے پہلے موجودہ زمانے میں دعوتی کام کی بات سوچنے والے پر طاری ہوتی ہیں۔ یہ مسئلہ ذہن میں رکھ کر جب ہم قرآن کے صفحات پر نظر ڈالتے ہیں تو بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ ہمارے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کے ایک مرد صالح کو اللہ تعالیٰ کوہ طور پر بلا کر اس کو پیغمبری عطا کرتا ہے اور اس کو یہ خدمت سونپتا ہے کہ وہ فرعون اور مصر کی قبطی قوم کے پاس جا کر اس کو خدا کا پیغام پہنچائے۔ حضرت موسیٰ محکوم فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کو ملک کی حکمراں قوم کو خطاب کرنے کا کام سونپا جا رہا تھا ۔ اس تقرر کو سن کر وہ بے اختیار کہہ اٹھے کہ خدایا میں اپنے اندر اس کی ہمت نہیں پارہا ہوں اور میری زبان میرا ساتھ دیتی ہوئی نظر نہیں آتی :

رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونَ وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا خدایا مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے میرا سینہ يَنطَلِقُ لِسَانِي شعراء ۱۲ - ۱۳ تنگ ہو رہا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues

Printed page