خدمت دین کی مشکلات
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۴۰
خدا کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ تم ڈرو مت۔ تمھاری ضرورت کی سب چیزیں تم کو ہماری طرف سے دے دی گئیں۔ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسٰى (طه - ٣٦)
یہ مانگنے اور دئے جانے کا واقعہ جو قرآن میں نقل کیا گیا ہے، وہ بنی اسرائیل کی تاریخ کے ایک واقعہ کی شکل میں ہماری اسی قسم کی مانگ کا جواب ہے۔ امت محمدیہ کے افراد جو ختم نبوت کے بعد نبوت کے کام پر مامور کئے گئے ہیں ان کے لئے بنی اسرائیل کے پیغمبر کا یہ واقعہ ایک پیشگی بشارت ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اگر تم ہمارے دین کی دعوت دینے کے لئے اٹھو تو ہم تم کو زبان دیں گے جس سے تم بولو گے، اور ہم تمھاری ڈھارس بندھائیں گے۔ جس کے بعد تم بڑے بڑے مواقع پر کسی ہچکچاہٹ کے بغیر ہماری آواز پہنچا سکو گے۔ مجھے اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ اگر آج کسی بندہ خدا کے اندر حقیقتہً د داعی بننے کا جذبہ ابھر آئے اور وہ بے تابا نہ اپنے رب کو پکار اٹھے کہ میں یہ کام کرنا چاہتا ہوں مگر : اللهم یضیق صدری ولا ينطلق لسانی خدا یا میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے اور میری زبان چلتی نہیں تو یقیناً کلام الہی اس کو دوبارہ آواز دے گا کہ جاؤ ہم نے تم کو وہ چیز دے دی جس کی تمھیں ضرورت تھی۔ وہی خدا آج بھی اس دنیا کا خدا ہے جس نے کوہ طور پر حضرت موسیٰ کو خطاب کیا تھا۔ وہ آج بھی وہی کچھ کر سکتا ہے جو اس نے ہزاروں برس پہلے اپنے ایک بندے کے ساتھ کیا تھا۔ وہ چاہے تو گونگے کو نطق بنادے اور بولتے ہوئے شخص کو گونگا کر دے۔ کم زور دل کو ہمت دے دے اور ہمت والے کو پست کرکے بٹھادے۔ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ پھر ہم کیوں نہ اس کے اوپر بھروسہ کریں ۔
۲- دوسری ضرورت جس کا اس سلسلے میں سوال پیدا ہوتا ہے، وہ معاش کا مسئلہ ہے۔ آدمی جب دین کی ضرورت پوری کرنے کے لئے اٹھتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی اپنی ضروریات تو ختم نہیں ہو جاتیں۔ اس کے جسمانی تقاضے، اس کا گھر، اس کا خاندان، اس سے بہت سی چیزیں مانگتے ہیں۔ اگر وہ دین کے کام کی طرف جھکے تو ذاتی کاموں میں کمی ہوتی ہے اور ذاتی ضروریات میں اپنی توجہ صرف کرے تو دین کا خانہ خالی رہ جاتا ہے۔ یہ دوسرا سوال ہے جو ہر داعی کے سامنے لازماً پیش آتا ہے اور اس کو پریشان کرتا ہے۔
یہ سوال لے کر ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں تو بہت سے مقامات ہم کو ملتے ہیں جہاں اس معاملے میں ہم کو خدا کی مدد کا یقین دلایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ہم قرآن کی ۵۵ ویں سورہ میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں یہ الفاظ لکھے ہوئے پاتے ہیں : وَمَنْ يَّتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهَ مَخْرَجًا ٭ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (طلاق ۲)
جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا تو اللہ اس کے لئے کشادگی پیدا کر دے گا اور اس کو ایسی ایسی جگہوں سے رزق پہنچائے گا جہاں اس کا گمان بھی نہیں جاسکتا۔
یہ ایک بہت بڑی یقین دہانی ہے، یہ ایک عظیم انشورنس ہے جو خدا کی طرف سے اہل ایمان کو دیا گیا ہے۔ آج کا انسان سمجھتا ہے کہ صرف اس کا کھیت، اس کی دکان اور اس کی ملازمت واحد ذریعہ ہیں جو کسی کو رزق دیتے ہیں ، اس کو خدا کے عظیم سرچشمے کی سرے سے خبرہی نہیں۔ اس کو معلوم ہی نہیں کہ یہاں ایک اور خزانہ ہے جو تمام معلوم خوانوں سے زیادہ بھرا ہوا ہے۔ یہاں ایک
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues