خدمت دین کی مشکلات
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۴۴
الجامعۃ الندویۃ کے نام سے قائم ہے۔ ان کا اپنا پریس ہے جو طبالۂ عربی اور انگریزی زبانوں میں کتابیں چھاپتا ہے۔ ان کا ایک عربی پرچہ نکلتا ہے جس کا نام سلسبیل ہے۔ طبالہ زبان میں المنار (ماہنامہ) اور الشباب (پندرہ روزہ) نکلتے ہیں۔ ریاست میں تقریباً دو مسجدیں بھی ان کے اہتمام میں ہیں نیز دارالیتامیٰ وغیرہ کے نام سے متعدد ادارے قائم ہیں۔ انھوں نے اندھوں اور بہروں کی تعلیم کا بھی انتظام کیا ہے۔ سوراخ دار کاغذ جو اس قسم کے طالب علموں کے لئے ہوتے ہیں، انگریزی کے علاوہ طبالۂ عالم اور عربی میں بھی تیار کئے گئے ہیں۔ ایک اندھے بچے کے سامنے ہم نے ایک کاغذ نکال کر رکھا۔ ہمارے دیکھنے میں وہ ایک خالی کاغذ تھا جس میں متفرق طور پر چھوٹے چھوٹے سوراخ بنے ہوئے تھے۔ بچے نے کاغذ پر انگلی پھیری اور قرات کے ساتھ پڑھنے لگا : قل ھو اللہ احد، اللہ الصمد _______ ۔ مجھے قرآن کا وہ بیان یاد آیا، جس میں کہا گیا ہے کہ آخرت میں آدمی کی کھَالَ تک گواہی دے گی۔ میں نے سوچا : اللہ اپنی قدرت کا ہاتھ چیزوں پر پھیرے گا اور ہر چیز اچانک وہ سب باتیں دہرانے لگے گی جو اللہ کے حکم سے اس پر نقش تھی، اگرچہ آج وہ ہم کو دکھائی نہیں دیتی۔ اس علاقہ کی ایک خصوصیت سب سے زیادہ اہم معلوم ہوئی ۔ وہ یہ کہ یہاں قومی اور مذہبی تعصب نہیں ہے۔ اس صورت حال نے جنوب کے علاقہ کو اسلامی دعوت کا نہایت عمدہ میدان بنا دیا ہے۔ یہاں کے مسلمان اگر دوسری قوموں تک اسلام کی دعوت پہنچانے میں سرگرم ہو جائیں تو اس کے عظیم الشان نتائج نکل سکتے ہیں عرب شیوخ اور ہندوستانی علماء پر مشتمل ایک قافلہ نے دو دن تک کیرلا کے مختلف ادارے دیکھے۔ کئی سومیل کے رقبہ میں قائم شدہ مدرسہ، مسلم کالج، مسلم دارالیتامیٰ وغیرہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ کیرلا کی ریاست ایک بے حد ہری بھری ریاست ہے۔ بعض لوگوں کے خیال کے مطابق کشمیر سے بھی زیادہ خوبصورت۔ چنانچہ ہر ادارہ ایک خوبصورت باغ میں واقع ہے۔ اس علاقہ کے مسلمانوں نے جگہ جگہ کثرت سے تعلیمی اور رفاہی ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ مثلاً یتیم خانے، اسکول، کالج، اندھوں اور گونگوں کو پڑھانا، اپاہجوں کو ہنر سکھانا، وغیرہ ۔ ان اداروں میں عام طور پر قوم کے تعاون کے علاوہ حکومت سے بھی امداد لی جاتی ہے۔ اس طرح بہت بڑے پیمانہ پر قوم کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے امداد کی یہ صورتیں شمالی ہند میں بھی پوری طرح موجود ہیں اور دوسری قومیں ان کو حاصل کر کے بے شمار ادارے قائم کئے ہوئے ہیں۔ مگر شمالی ہند کے مسلمان ابھی اس امکان سے فائدہ اٹھانے میں بہت پیچھے ہیں۔ ان کے لیڈر جلسوں اور تقریروں اور مطالبوں میں مصروف ہیں اور اسی کے ساتھ ان کی قوم بھی۔ انھوں نے الفاظ کے ذریعہ سستی لیڈری حاصل کرنے کے نسخے دریافت کر رکھے ہیں۔ پھر ان کو عمل کے ذریعہ قیادت حاصل کرنے کی کیا ضرورت۔
کیرلا کے ضلع تریچور کا ایک مقام کدنگلور (Kodungallore) ہے۔ یہاں ایک قدیم مسجد ہے جس کا نام مسجد چر مان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ (۶۲۶ء) میں یہاں ایک صحابی حبیب بن مالک رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ ان کے اثر سے اس وقت کا راجہ سامری مسلمان ہو گیا ۔ موجودہ مسجد اس کے رطہ کی بنائی ہوئی بتائی جاتی ہے اگر یہ روایت صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مدینہ کے بعد یہ پہلی مسجد ہے جو دنیا کے کسی مقام پر بنائی گئی۔ اس تاریخی مسجد کو بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اور ۱۳ مارچ کو مغرب کی نماز اس مسجد میں پڑھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues