خدمت دین کی مشکلات
الرسالہ، جون ۱۹۷۹، صفحہ ۴۳
ایک سفر نامہ (۸)
مالاپورم، کیرلا کا ایک ضلع ہے جو دہلی نے ۲۸۰۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ ندوۃ المجاہدین کے اجلاس میں شرکت کے لئے ۹ مارچ ۱۹۷۹ء کو یہاں پہنچا اور ۱۶ مارچ کو دہلی واپس آیا۔ ذاتی طور پر میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں جلسوں اور کانفرنسوں کا مجھے بالکل ذوق نہیں۔ میرا مشغلہ بس کتابیں پڑھنا ہے اور پڑھنے کے دوران میں کوئی مضمون ذہن میں آجائے تو اس کو لکھ لینا ۔ تاہم بعض اوقات دوستوں اور بزرگوں کے اصرار پر "السلامۃ فی الوحدۃ" کے اپنے اصول کو توڑنا پڑتا ہے۔ اسی قسم کا ایک واقعہ کیرلا کا سفر بھی تھا۔
ملاپورم کا ضلع ۱۹۶۸ء میں بنا۔ یہاں کی کل آبادی پندرہ لاکھ ہے جس میں گیارہ لاکھ مسلمان ہیں۔ یعنی تقریباً ستر فیصد۔ تاہم یہاں کی زمینوں اور باغات میں ان کا حصہ پچاس فی صد سے زیادہ نہیں ہے کیرلا میں تعلیم کا رواج بہت ہے۔ مگر ریاست کے گیارہ ضلعوں میں تعلیم میں سب سے پیچھے ملاپورم ہے۔ ممبو دری پاڈ کی وزارت کے زمانہ میں مسلم لیگ نے ان سے جو تعاون کیا، اس سے مسلمانوں کو کئی فائدے ہوئے۔ ان میں سے ایک کالی کٹ یونیورسٹی کا قیام ہے، یہ یونیورسٹی ملاپورم ضلع کی سرحد پر ہے اور اس میں مسلمانوں کی تعداد کافی ہے۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ، اس کے اسٹاف اور طلبہ میں مسلمانوں کا تناسب نصف کے قریب ہے۔ وائس چانسلر بھی اکثر مسلمان ہوتا ہے۔ مسلم لیگ نے اس ریاست میں توازن طاقت کا مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس میں اس واقعہ کا بھی دخل ہے کہ یہاں کے مسلمان دہشت گردوں کی ۱۰۰ فی صد تعداد مسلم لیگ کے جھنڈے کے نیچے متحد ہے۔ ہم لوگوں کے قیام کا انتظام اگر چہ کالی کٹ میں کیا گیا تھا۔ مگر اجلاس کا انتظام ۳۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر پولیکل میں تھا۔ گاؤں کے باہر ایک میدان میں جلسہ گاہ تھی۔ چاروں طرف ناریل کے گھنے درختوں کے جھنڈ کھڑے ہوئے تھے اور درمیان میں کھلے میدان میں پنڈال بنایا گیا تھا۔ اس قدرتی منظر سے پنڈال میں عجیب حسن پیدا کر دیا تھا۔ تقریر و خطاب کے علاوہ بعض دوسرے پرو گرام بھی رکھے گئے تھے۔ مثلاً پنڈال کے ایک حصہ میں ایک نمائش کا انتظام۔ اجلاس میں عرب شیوخ ایک درج سے زیادہ تعداد میں شریک ہوئے ۔
کالی کٹ میں مسجدوں کا طرز تعمیر نرالا ہے۔ ایک مسجد پانچ منزلہ دیکھی ۔ بڑے چوکور ہال کی مانند ایک کے اوپر ایک پانچ ”ہال“ ہیں جو جدید طرز تعمیر کے مطابق کھمبوں (Pillars) پر کھڑے کئے گئے ہیں۔ ایک اور مسجد اسی ڈھنگ پر زیر تعمیر ہے۔ وہ اور زیادہ اونچی ہوگی۔ یہ جگہ کی قلت کا حل ہے۔ زمین پر پھیلنے کی جگہ کم ہو تو عمودی اٹھان (Vertical Growth) اس کا بہترین حل ہوتا ہے۔ اسی سے قومی تعمیر کا راز بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر سیاسی میدان میں پھیلنے کے مواقع کم ہوں تو زندہ قومیں زندگی کے دوسرے میدان پالیتی ہیں جن میں نفوذ کر کے وہ اپنی سیاسی کمی کی تلافی کر سکیں اور بالآخر خود سیاست کو بھی اپنے دائرہ میں لے لیں ۔
ندوۃ المجاہدین کے بانی مرحوم محمد کاتب طیباری تھے ۔ اس مجلس کے تحت بہت سے ادارے اور تعلیم گاہیں قائم ہیں۔ ان کا کام پورے کیرلا میں ہو رہا ہے۔ انھوں نے ریاست میں چودہ "عربک کالج قائم کئے ہیں جو ان کے اہتمام میں چل رہے ہیں۔ فارغین کو "افضل العلماء" کی سند ملتی ہے جو سرکاری طور پر تسلیم شدہ ہے۔ اس کے علاوہ ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1979 All issues