Al-Risala · July 1979 · page 3

بسم الله الرحمن الرحیم

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۳

بسم الله الرحمن الرحیم

ایک پتھر دوسرے پتھر سے ٹکراتا ہے تو وقتی طور پر کچھ روشنی نکلتی ہے اور جلد ہی بجھ جاتی ہے۔ مگر سورج کی روشنی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ کسی دوسری چیز کا ٹکرانے سے نہیں چمکتا بلکہ خود اپنی ذات میں روشن ہے۔ وہ نور اور حرارت کے ابدی بھنڈار سے روشنی لے کر اتھاہ خلا میں جگمگا رہا ہے۔ ی حال اسلامی تحریکوں کا ہے۔ ایک تحریک وہ ہے جو وقتی حالات کے ردعمل سے پیدا ہوئی ہو۔ دوسری تحریک وہ ہے جو خدا کے ازلی نور کے پرتو سے چمک اٹھی ہو، جو آخرت کے ابدی محاسن کا دلیوی ظہور ہو۔ بظاہر یہ دونوں تحریکیں اسلامی تحریکیں ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا سورج میں اور پتھر کی رگڑ سے پیدا ہونے والی چنگاری میں۔ ایک انسانی رد عمل کا نتیجہ ہے، دوسری خدا سے قربت و تعلق کا ظہور۔ ایک قریبی حالات کے اثر سے پیدا ہوئی ہے، دوسری آخرت کی برتر دنیا کا انعکاس ہے۔ ایک کی رونق وقتی اور ہنگامی رونق ہے، دوسری کا حاصل ازلی اور ابدی بہشت کا دروازہ کھل جانا۔

ایجابی اسلامی تحریک براہ راست خدا اور رسول کے فیضان سے ملتی ہے اور رد عمل کی تحریک وقتی حالات کے اثر سے۔ دوسرے لفظوں میں، ایجابی اسلامی تحریک زمانہ نبوت سے اپنے سفر کا آغاز کرتی ہے اور رد عمل کی تحریک اپنے قریبی زمانہ کے سیاسی یا غیر سیاسی حالات سے۔ یہ فرق دونوں قسم کی تحریکوں میں زبردست فرق پیدا کر دیتا ہے۔ بظاہر دونوں ایک ہی قسم کے الفاظ بولتے ہیں۔ مگر دونوں کے ذہن میں اسلامی اصطلاحات کا مفہوم اسی طرح بدل جاتا ہے جس طرح ”پاپ“ کا لفظ ایک ہندی داں کے لئے گنہگار کا مفہوم رکھتا ہے مگر ایک انگریزی داں کے لئے وہ خشخاش (Poppy) کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ مثلاً ایک تحریک جس نے وقتی سیاسیات سے متاثر ہو کر دین کی تعبیر کی ہو، وہ اپنی سیاسی نفسیات کی بنا پر دین کو اسٹیٹ (ریاست) کے ہم معنی سمجھ لے گی اور بندے اور خدا کے تعلق کو ایک ایسا تعلق بنا دے گی جس میں دین کے نام پر آدمی کے حصہ میں صرف سیاسی بحثیں آتی ہیں۔ وہ عبدیت کے لطیف تر مقامات کا تجربہ ہی نہیں کر پاتا۔ اس کے برعکس نبوت کے فیضان سے دین کا تصور لینے والا آدمی اس کو اللہ سے اس برتر تعلق کے معنی میں لے گا جہاں آدمی کی اپنی انا ختم ہو جاتی ہے اور وہ اپنی پوری ہستی کو اپنے رب کے سامنے ڈال دیتا ہے۔ اسی طرح ایسی تحریک جس نے عملیاتی مذاہب کے اثر سے اپنا دینی تصور بنایا ہو وہ ذکر کو ”جاپ“ کے معنی میں لے لے گی۔ جب کہ پیغمبر کے صبح و شام سے ذکر کا مفہوم اخذ کرنے والا آدمی اس کو ایک عظیم نفسیاتی تجربہ کے معنی سمجھے گا۔ اس کے نزدیک ذکر اس یاد الہی کا نام ہو گا جو خدا سے برتر کی تجلیات میں ہمہ تن غرق ہونے سے کسی بندہ خدا کے دن میں پیدا ہوتی ہے نہ کہ کسی قسم کی الفاظ شماری کا حقیقی دین سے احتساب خویش کا ذہن ابھرے گا اور سیاسی دین سے احتساب اغیار کا۔ حقیقی ذکر ہو تو وہ دلوں کو پگھلاتا ہے، جب کہ شمار یاتی ذکر کی ساری توجہ اس پر ہوتی ہے کہ گنتی کا مقررہ نصاب پورا کر لے۔ دین نہ خارجی ہنگامہ آرائی کا نام ہے اور نہ طلسماتی عملیات کا۔ یہ خدا کے باغ میں خدا کا پسندیدہ پھول اگاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اپنے شعور کو نفسانی آمیزشوں سے پاک کر کے اس کو ملکوتی شعور کی سطح پر پہنچائے۔ وہ اپنے وجود کو ان اعلیٰ اوصاف اور کیفیات کا مالک بنائے جو اس کو خدائے سبوح و قدوس کا ہم نشین بنانے والی ہوں، جو اس کو جنت کے پاکیزہ ماحول میں رہنے کے ابدی استحقاق عطا کر سکیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page