توحید کی حقیقت
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۴
توحید کی حقیقت
دین کی اصل توحید ہے۔ توحید کا مطلب ہے ایک اللہ پر اعتماد کرنا اور اسی کو اپنے خوف و محبت کے جذبات کا مرکز بنانا۔ انسان کو سوچنے اور محسوس کرنے کی جو صلاحیتیں دی گئی ہیں، وہ اپنا کوئی نہ کوئی تو جہاتی مرکز چاہتی ہیں۔ آدمی فطری طور پر چاہتا ہے کہ کوئی ہو جس کی طرف وہ لپکے، جس سے وہ امید رکھے، جس کے اوپر وہ بھروسہ کرے، جس کی یاد کو وہ اپنا سرمایہ حیات بنائے۔ آدمی اپنی ہستی کا ایک مرکز بنائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ خواہ یہ مرکز دولت واقتدار ہو یا قبریں اور دیوی دیوتا، یا کوئی دوسری چیز۔ یہ مرکز اگر اللہ کے سوا کوئی اور ہو تو یہ شرک ہے۔ اور اگر انسان صرف اللہ رب العالمین کو اپنی ہستی کا مرکز بنائے تو اسی کو توحید کہتے ہیں۔ اسلام کا تقاضا ہے کہ آدمی اپنی تو جہات کو صرف اللہ کی طرف موڑ دے۔ اس کے سوا کوئی چیز اس کے لئے مرکز توجہ کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔
توحید کی حقیقت کو کسی ایک لفظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ بندے کے ایک ایسے تعلق کا نام ہے جو محبت اور خوف اور توکل کے جذبات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ کوئی بندہ اس وقت اللہ کا موحد بنتا ہے جب کہ وہ اللہ کو اس طرح پالے کہ وہی اس کا محبوب بن جائے ۔ اسی پر وہ سب سے زیادہ بھروسہ کرنے لگے۔ اس کو سب سے زیادہ جس بات کا اندیشہ ہو وہ یہ کہ کہیں اس سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو اس کو خدا کی رحمتوں سے محروم کر دے۔ ان تمام انسانی جذبات کے لئے صرف اللہ کو خاص کر لینے کا نام توحید ہے۔ اس سلسلہ میں یہاں قرآن سے چند آیتیں نقل کی جاتی ہیں :
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ اَنْدَاداً اور بعض وہ لوگ ہیں جو اللہ کے سوا اوروں کو اس کا برابر يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوٓا اَشَدُّ حُبّاً ٹھہراتے ہیں۔ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ لِلَّهِ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوٓا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ سے رکھنا چاہئے اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ سب سے اَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً وَّ اَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِہ زیادہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں۔ اور کاش یہ بے انصاف بقرہ ۱۶۵ دیکھ لیں اس وقت کو جب کہ وہ عذاب کو دیکھیں گے کہ ساری طاقت صرف اللہ کے لئے ہے اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ اللہ ، اس کے سوا کوئی الہ نہیں۔ اور چاہئے کہ اللہ ہی پر تغابن ۱۳ بھروسہ کریں ایمان لانے والے۔
اِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وہ لوگ دوڑتے تھے بھلائیوں پر اور پکارتے تھے ہم کو امید وَّرَهَبًا وَّكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ انبیاء ۹۰ سے اور ڈر سے اور وہ ہمارے آگے عاجزی کرنے والے تھے۔ ان آیات کے مطابق توحید، اعتقادی طور پر یہ ہے کہ آدمی سب سے زیادہ اپنے رب سے محبت کرنے لگے۔ اس کے لئے سب سے زیادہ بھروسہ کی چیز اس کا خدا بن جائے۔ اس کی امیدیں اور اس کے اندیشے اللہ کے ساتھ اس طرح وابستہ ہو جائیں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues