Al-Risala · July 1979 · page 8

جنت کی دنیا

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۸

واحد کره ہے جہاں انسان ایک جگمگاتی ہوئی تہذیب بناتا ہے۔ وسیع کائنات میں زمین کے سوا ئی دوسرا مقام نہیں جہاں تہذیب و تمدن کی تعمیر ممکن ہو۔ خلائی مسافروں نے بتایا ہے کہ خلا کے بقیہ کرے انسان جیسی زندگی کے لئے اس درجہ ناموافق ہیں کہ وہ بالکل جہنم معلوم ہوتے ہیں اور ان کے مقابلہ میں ہماری موجودہ زمین جنت۔ زمین کے سوا بقیہ کائنات میں انسان کے لئے کہیں ایک گلاس پانی بھی موجود نہیں۔ حتیٰ کہ امریکی خلا باز جس نے چاند کا سفر کیا، اس کو اس سفر میں پانی کی جگہ اپنا پیشاب صاف کر کے پینا پڑا۔

کیا عجب کہ زمین، اپنی امکانات کے اعتبار سے، خدا کی بنائی ہوئی جنت ہو۔ جنت کی جن نعمتوں کا ذکر قرآن حدیث میں ہے وہ سب وہی ہیں جو بہ تمام و کمال موجودہ زمین پر پائی جاتی ہیں۔ قرآن میں جنت کی تصویر موجودہ دنیا کے "پھلوں" کے مشابہ بتائی گئی ہے (بقرہ (۲۵) حدیث میں ہے کہ سیحون اور جیحون اور فرات اور نیل سب جنت کے دریا ہیں (مسلم) اس دنیا میں وہ سب کچھ انتہائی افراط کے ساتھ موجود ہے جو انسان کو خوشیوں اور کامیابیوں سے بھری ہوئی ایک زندگی بنانے کے لئے درکار ہے (ابراہیم (۳۴) مگر آج زمین کا حسن انسان کو نظر نہیں آتا۔ یہ ویسا ہی ہے جیسے کہ اللہ کی ہستی بے حد نمایاں ہے، وہ آسمان و زمین کا نور ہے۔ مگر انسان اللہ کو نہیں دیکھتا، اللہ نے اس زمین کو بہ حد خوب بنایا ہے (الذي احسن كل شيئ خلقہ ، سجدہ (۷) مگر انسان دنیا کے حسن کو نہیں دیکھ پاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے مصنوعی خول سے باہر نکلنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ آدمی کسی چیز کو جب دیکھتا ہے تو وہ اس کو اپنی "آنکھ سے نہیں دیکھتا بلکہ اپنے ذہن" سے دیکھتا ہے۔ اور آدمی کا حال یہ ہے کہ اس نے اپنے ذہن کو سلطحیت ، ظاہر پرستی، خود پسندی اور وقتی مفادات کے پردوں میں ڈھانپ رکھا ہے۔ ہر آدمی ایک بناوٹی خول میں بند ہے۔ اس صورت حال نے آدمی کو اس قابل نہیں رکھا کہ وہ اپنے آپ سے گزر کر کسی چیز کو اس کے اصلی روپ میں دیکھ سکے۔ وہ چیزوں کو خود ان کی سطح پر دیکھنے کے بجائے ان کو اپنی ذات کی سطح پر دیکھتا ہے۔ وہ ہر آن جہنمی دھوئیں میں گھرا ہوا ہوتا ہے۔ اس بنا پر وہ دنیا کی جنتی فضاؤں کو دیکھ نہیں سکتا۔ آدمی اگر اپنی ذات کے خول سے باہر آئے اور چیزوں کو خدا کی نظر سے دیکھے تو وہ دنیا کے "پھلوں" میں جنت کو خوشبو پائے گا اور دنیا کے "دریاؤں" میں جنت کا نظارہ کرے گا۔

تاہم اگر کوئی اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھائے کہ دنیا کو اس کے ربانی روپ میں دیکھ سکے تب بھی وہ اس کو برتنے اور اس سے لطف اندوز ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس کی دو خاص وجہیں ہیں۔ ایک اس لئے کہ انسان کو بر بنائے امتحان جو آزادی اور اختیار دیا گیا ہے، اس کا غلط استعمال کر کے اس نے زمین کو ظلم و فساد سے بھر دیا ہے۔ (روم۔ (۴۱) دوسرے یہ کہ اللہ نے مخصوص مصالح کی بنا پر زمینی زندگی کے اوپر کبد (بلد (۴) کا پردہ ڈال دیا ہے۔ قیامت کے بعد جب زمین کو ان دونوں کیوں سے پاک کر کے دوبارہ سنوارا جائے گا تو وہ اسی طرح نکھر اٹھے گی جس طرح گرمیوں کے سورج سے جھلسے ہوئے اور گرد و غبار سے اٹے ہوئے درخت بارش کے بعد نکھر جاتے ہیں۔ اس وقت ہماری یہ دنیا اتنی حسین اور اتنی لذیذ ہو جائے گی "جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا۔ " جنت مکروبات سے ڈھکی ہوئی ہے

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page