Al-Risala · July 1979 · page 4

جنت کی دنیا

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۴

۱۔ ہماری دنیا کی ایک خرابی وہ ہے جو انسان کے ہاتھوں (بما كسبت ايدی الناس) پیدا ہوئی ہے۔ یہ زمین خدا کی زمین ہے۔ اس زمین کا انتظام خدا کے وہ پاک کارندے کر رہے ہیں جن کو فرشتے کہا جاتا ہے۔ تاہم انسان کو عارضی مدت کے لئے یہاں اختیار دے دیا گیا ہے۔ اس محدود اختیار کو انسان نے نہایت بری شکل میں استعمال کیا۔ انسان نے فرشتوں کے اس اندیشہ کو بدترین شکل میں درست ثابت کیا کہ انسان کو زمین میں اختیار دیا جائے گا تو وہ زمین پر فساد کرے گا اور خون بہائے گا (بقرہ ۳۰) انسانوں کے علائق (شہر فساد) نے خدا کی دنیا کو اس قدر آلودہ کر دیا ہے کہ کسی خدا کے بندے کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ دنیا کو اس کے اصلی روپ میں پا سکے۔

انسان خدا کا پرستار بننے کے بجائے اپنی پرستش کا بت کھڑا کرتا ہے۔ وہ خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے کے بجائے اپنی گھڑی ہوئی راہوں پر دوڑتا ہے۔ وہ کامیابی پا کر اکڑتا ہے۔ وہ اپنے بھائی کو اس کا حق دینے کے بجائے اس کو برباد کرنے کے منصوبے بناتا ہے۔ وہ خدا کے دیئے ہوئے مواقع کو حقیقی کاموں میں لگانے کے بجائے ان کو نمائشی کاموں میں برباد کرتا ہے۔ وہ کمزور کو ستاتا ہے اور جھوٹے مظاہرے کر کے حمایت حق کا کریڈٹ لیتا ہے۔ وہ کسی کی ترقی کو دیکھ کر حسد اور بغض میں مبتلا ہوتا ہے اور اس کو گرانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اعتراف کے طریقہ کو چھوڑ کر ہٹ دھرمی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ انسانیت کے لئے جینے کے بجائے اپنی ذات کے لئے جیتا ہے۔ وہ امن کے حدود میں کام کرنے کے بجائے قتل اور توڑ پھوڑ کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی بڑائی قائم کرنے کی خاطر پوری قوم اور پوری انسانی نسل کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ انسان کی اس قسم کی بداعمالیوں نے خشکی اور تری کو فساد سے بھر دیا ہے۔ زمین کے جبتی چہرہ کے اوپر اپنا جہنی پردہ ڈال دیا ہے۔

۲۔ دوسری چیز دنیا کے موجودہ نظام کی محدودیت ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو ہم نے رنج اور مشقت (کبد) میں پیدا کیا ہے۔ یہ اس مصلحت یہ ہے کہ انسان آپ سے باہر نہ ہو۔ وہ قادر مطلق کو یاد کرتا رہے۔ دنیا میں انسان کی زندگی ایسی ہی ہے جیسے پھول کے ساتھ کانٹا۔ یہاں ہر چیز کے ساتھ ایک "کانٹا " یا کبد لگا دیا گیا ہے۔ زندگی کے ساتھ موت، جوانی کے ساتھ بڑھا پا، طاقت کے ساتھ کمزوری صحت کے ساتھ بیماری، لذت کے ساتھ محدودیت، آرام کے ساتھ اندیشہ، خوشی کے ساتھ اکتاہٹ عمل کے ساتھ تھکان، ترقی کے ساتھ مسائل دوستی کے ساتھ دشمنی، معتدل موسم کے ساتھ شدید موسم ، بارش کے ساتھ طوفان نسیم صبح کے ساتھ آندھی، تمدن کے ساتھ کثافت (Pollution) کامیابی کے ساتھ حادثہ وغیرہ ۔ دنیا میں پھول کے ساتھ اس طرح " کانٹے " کی یک جائی نے دنیا کی ہر خوشی اور یہاں کی ہر لذت کو بے معنی بنا دیا ہے۔ آدمی یہاں پا کر بھی نہیں پاتا، آدمی یہاں کامیاب ہو کر بھی اپنی کامیابی کا لطف نہیں اٹھاتا۔ حتی کہ وہ اپنی اندرونی پیچیدگیوں اور خارجی مسائل کی وجہ سے اس قابل نہیں رہ جاتا کہ دنیا کو اس کے بے آمیز روپ میں دیکھ سکے۔ اپنے آپ کو حقیقت واقعہ کے مطابق بنانے والے قیامت خدا کا وہ منصوبہ بند دھما کا ہے جو اس لئے آئے گا کہ زمین کو ان دونوں قسم کی خرابیوں سے پاک کر دے۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ خدا زمین کے معاملہ کو براہ راست اپنے چارج میں لے لے گا (مریم (۴۰) خدا اپنی زمین سے خبیث انسانوں

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page