Al-Risala · January 1979 · page 31

۔ موجودہ حالات میں ایک شخص کے لئے یہ بہت

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۳۱

وہ با مقصد انسان نہیں ہوتا۔ بلکہ سابقہ با مقصد انسان کی لاش ہوتی ہے جو دیکھنے میں سابقہ انسان کی طرح نظر آتی ہے، مگر حقیقتہً انسان نہیں ہوتی۔

اب میں ایک آخری بات کہہ کر اپنی گفتگو کو ختم کروں گا۔ اس طرح کی باتیں جب کہی جاتی ہیں تو بعض لوگ جواب دیتے ہیں_ "آپ کی باتیں تو ٹھیک ہیں، ہم خود بھی اپنے اندر یہی چیز پیدا کرنا چاہتے ہیں، مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ چیز کیسے پیدا ہو۔ " یہ بظاہر ایک سوال ہے مگر حقیقتہً اس کے ذریعے سے اپنے الزام کو اپنے سے ہٹا کر اسے خارج کے اوپر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر سوچیے کہ وہ خارج جس کے اوپر آپ اپنا الزام ڈالنا چاہتے ہیں وہ کون ہے ظاہر ہے کہ وہ اس دنیا کا مالک خدا ہے۔ اسی نے ساری چیزوں کو بنایا ہے۔ اس لئے خارج کو الزام دینے کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے یہ دنیا اس ڈھنگ سے بنائی ہے کہ ہم وہاں اپنے ایمانی تقاضوں کو حاصل کرنا چاہیں تو حاصل نہ کر سکیں. ظاہر ہے کہ یہ بالکل غلط بات ہے . خدا اس سے پاک ہے کہ اس پر یا اس کی تخلیق پر اس قسم کا الزام عائد ہو سکے . اس لئے خارج پر جب الزام ڈالا نہیں جاسکتا تو لامحالہ وہ آپ کی طرف لوٹے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری اپنی ذات کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والا ہو۔ اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ فطرت اور حقیقت میں تضاد نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ حقیقت ہے کہ ہم کو ایسا ہی بننا چاہئے تو لازماً ہماری فطرت اور کائنات کو ایسا ہونا چاہئے کہ ہم ایسے بن سکیں۔

تعمیر ملت اور احیاءِ اسلام کی مہم | ایسی قبول کر کے اس فکری مہم میں ہماری مدد فرمائیں ۔ پانچ پرچہ کی قیمت بعد وضع کمیشن ساڑھے سات روپے ہوتی ہے۔ ہمارا ہر ہمدرد یہ طے کرے کہ وہ پانچ پرچے | ہر حال میں منگائے گا۔ اور جب تک خرید ار مہیا نہ ہوں لوگوں میں مفت تقسیم کرے گا۔ اور اس وقت تک ۔ ساڑھے سات روپے ماہانہ اپنے پاس سے ادا کرتا رہے گا | جب تک خریدار نہیں مل جاتے ۔

۔ موجودہ حالات میں ایک شخص کے لئے یہ بہت

| چھوٹی قربانی ہے۔ لیکن اگر ہمارا ہر ہمدرد اس قربانی کو ۔ | اپنی زندگی میں شامل کر لے تو چند سالوں میں انشاء اللہ | بہت بڑے نتائج نکل سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues

Printed page