۔ موجودہ حالات میں ایک شخص کے لئے یہ بہت
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۹، صفحہ ۳۲
مولاناحمید اللہ ندوی بھوپال یہ غوغائی سیاست ماہ اکتوبر کے الالرسالہ میں کشمیر میں میر سید علی ہمدانی کے کام کی نوعیت کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ آپ نے واقعاتی انداز میں دعوت کا کام کرنے والوں کی جو رہنمائی فرمائی ہے ، اس طرز پر جب بھی کام ہوا ہے ، اسے کامیابی ملی رہے۔
اس کے علاوہ ہمارے سامنے مسلمانوں کی تاریخ میں ایک دوسری عظیم الشان مثال موجود ہے ، وہ ہے شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی نے کا کام ۔ اکبر کی گمراہی کو ختم کرنے کے لئے مجدد الف ثانی تاریخ اسلام کا سب سے بڑا میدان کربلا بر پا کر سکتے تھے ، لاکھوں افراد کو وہ اپنے جوش خطابت کے ذریعہ شہادت کے لئے آمادہ کر سکتے تھے ، اور پھر بھی وہ اکبر کے سامنے ممکن ہے ، اسی طرح ناکام رہتے ، جس طرح حضرت حسینؓ یزید کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے۔ مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ ہندوستان کے ہر مکتبہ فکر کے علماء و خواص کو اکٹھا کر کے ایک مشترکہ آزمائش کو ختم کرنے کے لئے کوئی مجلس مشاورت بھی نہیں بنائی، نہ انھوں نے عوام کو ترک موالات پر ابھارا۔ وہ انتہائی دردمندی، خاموشی اور حکمت عملی کے ساتھ اس فتنہ کا انسداد کرنے کے لئے مثبت انداز میں کام کرنے کے وقت اور موقع کے منتظر ہے۔ خود اکبری عہد کو انھوں نے اپنے کام کا آغاز کرنے کے لئے موزوں نہیں پایا تو مرحوم نے قطعاً عجلت نہیں دکھائی، انھوں نے مکمل طور پر اس اصول پر بھی عمل کیا کہ بے وقت کا اقدام ناکامی کا سبب نہ بن جائے۔ انھوں نے جہانگیر کی جانشینی تک انتظار کیا۔ حالاں کہ ان کے لئے یہ انتظار سخت صبر آزما تھا۔ ظاہر ہے کہ جہانگیر اکبر کے نظریات کے سلسلہ میں اتنا حساس نہیں تھا۔ اس عرصہ میں مجدد صاحب نے یہ بھی سوچ لیا کہ بادشاہ پر کس طرح اثر انداز ہوا جا سکتا ہے۔ بادشاہ کے ذہن کو بدلنے کے لئے ایک تجویز میری ایک تجویز ہے جسے جناب پسند فرمائیں تو شائع بھی کردیں، وہ یہ کہ الرسالہ کی اشاعت کا ہفتہ منایا جائے اور سالرسالہ کے ہمدردوں سے اپیل کی جائے کہ اس ہفتہ اس کام کو ایک مہم کے طور پر کریں اور کم سے کم ہر خریدار، نئے تین خریدار بنائے، زیادہ جتنے بھی بن جائیں۔ یہ کام ایک تحریک کے طور سال میں ایک مرتبہ بھی ہو جائے تو ہر سال اشاعت میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے، اور یہ بات چل پڑے تو حیرت انگیز طور پر رسالہ کی اشاعت پھیل سکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایک خاصی تعداد ایسے لوگوں کی ہوگی جو الرسالہ سے ایک تحریک کی طرح وابستہ ہوگی ، جتنے خریدار ہیں ، ان کی اگر ایک ثلث تعداد نے بھی اس پر عمل کیا تو ایک مہم میں الرسالہ کی اشاعت دوگنی ہو جایا کرے گی ، اور ہر آنے والا سال اشاعت کو سالِ گزشتہ کے مقابلہ میں دگنا کر دیا کرے گا۔ میں نے طے کیا ہے کہ میں الرسالہ کے لئے اور اس تحریک کے لئے ایسے لوگوں کے ذہن بناؤں جو سوسائٹی میں مؤثر حیثیت رکھتے ہوں اور قائم شدہ ایجنسی کے ساتھ تعاون کروں (حمید اللہ ندوی ۔ بھوپال)
‹ Previous page Next page › Contents of January 1979 All issues