Al-Risala · July 1979 · page 15

اہل جنت کی مثال

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۵

گویا ایک ایسا شخص جو غنڈا پن کا مزاج رکھتا ہو وہ جاپانی معاشرہ میں رہنے کے قابل نہیں۔ جاپانی معاشرہ ایسے کسی آدمی کو قبول نہیں کر سکتا۔ اس چھوٹی سی مثال سے جنت کے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔ جنت گو یا خوب سلیمہ (شعراء ۸۹) اور نفوس مطمئنہ (فجر ، ۲۷) کی کالونی ہے۔ وہ ایسے لوگوں کا معاشرہ ہے جو ہر قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہوں ۔ اس لئے وہاں کی دنیا میں صرف انھیں لوگوں کو بسایا جائے گا جو دنیا کی امتحانی زندگی میں اس بات کا ثبوت دے چکے ہوں کہ وہ اپنے اندر پیچیدگیوں سے آزاد روح (Complex - free soul) رکھتے ہیں۔ جنت کا ماحول وہ ماحول ہو گا جہاں ہر طرف خدا کی حمد ہو رہی ہوگی ، خدا کی کبریائی کے سوا کسی اور کی کبریائی کا وہاں وجود نہ ہو گا۔ اس لئے وہی لوگ جنت کی دنیا میں رہنے کے قابل قرار پائیں گے جو موجودہ دنیا میں خدا کی حمد اور اس کی کبریائی سے سرشار رہے ہوں۔ اپنی ذات کی کبریائی چاہنے سے جن کا سینہ خالی رہا ہو۔ جنت کی دنیا میں قول و عمل کا تضاد نہ ہو گا۔ وہاں کوئی کسی کو دھوکہ نہ دے گا۔ وہاں کوئی کسی کا استحصال کرنا نہ چاہے گا۔ وہاں کوئی کسی کو آزار نہ پہنچائے گا، اس لئے جنت کا باشندہ وہی شخص ہو سکتا ہے جس نے موجودہ زندگی میں اپنے عمل سے دکھایا ہو کہ وہ شہریت کے ان اعلیٰ معیاروں پر پورا اترتا ہے۔ جنت مکمل طور پر مثبت سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ اس لئے وہاں کی بستیوں میں رہائش اختیار کرنے کا اجازت نامہ صرف انھیں لوگوں کو ملے گا جنھوں نے آج کی دنیا میں یہ ثبوت دیا ہو کہ وہ خالص مثبت مزاج رکھنے والے لوگ ہیں اور منفی اور تخریبی کارروائیوں سے کوئی لگاؤ نہیں رکھتے۔ جنت کی دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں آدمی دوسروں کی شرارتوں اور نالائقیوں سے محفوظ ہو گا، اس لئے جنت کی آبادیوں میں رہنے کے قابل وہی شخص ہے جس نے دنیا میں یہ ثبوت دیا ہو کہ وہ ایک ایسا شخص ہے جو دوسروں کو اپنی شرارتوں اور نالائقیوں سے محفوظ رکھنے والا ہے۔ جنت کا ماحول خرافات سے ، گندگیوں سے اور فضول چیزوں سے پاک ہوگا ، اس لئے جنت کی کالونیوں میں بسانے کے لئے انھیں لوگوں کا انتخاب کیا جائے گا جو اس قسم کی بے ہودگیوں سے دور رہنے والے ثابت ہوئے ہوں۔

اہل جنت کی مثال

درخت موجودہ دنیا میں، جنت کے شہریوں کے امثال (Doubles) ہیں۔ قرآن میں ایمان کو درخت سے تشبیہ دی گئی ہے (ابراہیم ۲۴) انسانی وجود کی مثال زمین کی سی ہے۔ توحید کا عقیدہ اس زمین کے لئے بیج کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب ایک آدمی توحید کو اپناتا ہے تو گویا وہ اپنی ہستی کی زمین پر شجرہ طیبہ کا بیج بوتا ہے ۔ اگر زمین تیار ہے تو بیج اگنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کی جڑیں انسان کی ہستی میں داخل ہونا شروع ہو جاتی ہیں، اس کی شاخیں اس کے وجود کے چاروں طرف ابھرنے لگتی ہیں۔ جو لوگ کامل شجر بنیں گے وہ یہاں ابدی طور پر نشو و نما پائیں گے ۔ اور جو جھاڑ جھنکار ہوں گے ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا۔

درخت اس لئے وجود میں نہیں آتا کہ دوسروں کے خلاف تقریر و تحریر کی مہم چلائے اور خارجی دنیا میں نظام اشجار قائم کرنے کے لئے توڑ پھوڑ کا طوفان بر پا کرے ۔ گدھے اور بھیڑئے ممکن ہے ایسا کرتے ہوں مگر درختوں کا

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page