Al-Risala · July 1979 · page 14

جنت کی شہریت کس کو ملے گی

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۴

پیدا نہیں کریں گی، نہ اپنے لئے اور نہ دوسروں کے لئے۔

جنت کی شہریت کس کو ملے گی

یہ حسین و لذیذ جنت جو قیامت کے بعد بننے والی ہے، اسی کے شہریوں کا نام مومن مسلم ہے۔ موجودہ زندگی اسی اہلیت کا امتحان ہے۔ یہاں لوگوں کے اعمال کے مطابق ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ جنت کے لطیف ماحول میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو وہاں کی شہریت عطا کی جائے گی۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں لوگوں کے منہ سے جو بات نکلے گی وہ یہ کہ خدایا، پاک ہے تیری ذات، اور آپس میں ان کی ملاقات سلام ہوگی۔ اور ان کی آخری بات یہ ہوگی کہ سب خوبی اللہ کے لئے ہے (یونس (۱۰) اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں ایک طرف خدا کی بڑائی اور اس کی شکر گزاری کا ماحول ہوگا۔ لوگ اپنے رب کے لئے بہترین جذبات سے سرشار ہوں ۔ دوسری طرف ان کے درمیان آپس میں جو فضا ہوگی وہ تمام تر سلامتی اور محبت کی فضا ہوگی نہ کہ ضد اور منافقت کی۔ ایسی حالت میں جنت کی دنیا میں داخلہ کا مستحق وہی قرار پاسکتا ہے جس نے موجودہ دنیا کی امتحانی مدت میں اپنے عمل سے یہ ثبوت دیا ہو کہ وہ خدا اور اس کے بندوں کے لئے اسی قسم کے اعلیٰ جذبات کیفیات رکھنے والا انسان ہے۔ حدیث میں ہے کہ جنت میں وہ شخص نہیں جائے گا جس کے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہو۔ پوچھا گیا کہ کبر کیا ہے۔ فرمایا: حق کو نظر انداز کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں حقیقتوں کے اعتراف کا اور ہر بندہ خدا کے احترام کا ماحول ہوگا، اس لئے جنت میں آباد کاری کا مستحق وہی شخص ہو سکتا ہے جس نے آج کے امتحانی مرحلہ میں اپنے رویہ سے یہ ثابت کیا ہو کہ وہ حق کو پہچاننے والا اور اس کے آگے جھک جانے والا ہے خواہ اس کے ساتھ کوئی دباؤ شامل نہ ہو۔ اسی طرح وہ انسان کا احترام کرنے والا ہے خواہ وہ اپنے پیچھے دولت اور اقتدار کا زور نہ رکھتا ہو۔ قرآن وحدیث میں جس قسم کے لوگوں کے لئے جہنم کی وعید ہے اور جن کو جنت کی خوش خبری دی گئی ہے، وہ سب گویا وہ اوصاف ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ کس قسم کے لوگ جہنم میں دھکیل دئے جائیں گے اور کون سی خصوصیات رکھنے والے لوگ ہیں جو جنت کے ماحول میں رہنے کے مستحق قرار پائیں گے۔ اسلام کی عبادات اور اعمال سب اسی لئے ہیں کہ وہ آدمی کا تزکیہ کر کے اس کو اس قابل بنائیں گے کہ وہ جنتی معاشرہ میں بسائے جانے کے قابل ہو سکے۔

ایک ہندوستانی صحافی ٹوکیو گیا۔ وہاں ایک گفتگو کے دوران اس کے جاپانی دوست نے اس کو بتایا کہ دودھ کی پیداوار جو اس وقت جاپان میں ہے، اس کے لحاظ سے ہم اپنی آبادی کے صرف دو تہائی حصہ کو دودھ مہیا کر پاتے ہیں۔ ہندوستانی نے فوراً کہا کہ آپ لوگ نہایت آسانی سے پوری آبادی کو دودھ فراہم کر سکتے ہیں، اور اس کی صورت یہ ہے کہ دودھ کی مقدار جتنی کم ہے، اتنا اس کے اندر پانی ملا دیں۔ جاپانی یہ سنتے ہی فوراً سنجیدہ ہو گیا۔ اس نے اپنے ہندوستانی دوست کے کان میں چپکے سے کہا: اچھا ہوا کہ یہ بات تم نے صرف مجھ سے کہی۔ اس قسم کی تدبیر یہاں عوام میں ہرگز بیان نہ کرنا۔ ورنہ لوگ تم کو قتل کر دیں گے : Do not pronounce such remedies here; they will murder" you"; Weekend Review, New Delhi, October 14, 1967.

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page