Al-Risala · July 1979 · page 17

دین کا ماخذ قرآن و سنت نہ کہ تاریخ

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۷

دین کا ماخذ قرآن و سنت نہ کہ تاریخ

ایک شخص غریب خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کے لئے زندگی کی صورت صرف یہ تھی کہ اپنی کوششوں پر بھروسہ کرے اور ماحول کے اندر اپنا اعتبار اور اعتماد پیدا کر کے اپنی جگہ بنائے۔ اس نے محنت اور دیانت داری کو اپنا اصول بنایا۔ اس کا طریقہ کامیاب رہا۔ اس نے اپنے عمل سے غیر معمولی ترقی حاصل کی ۔ اس نے اپنے لئے بہت بڑا مکان تعمیر کیا۔ باغ اور کھیت بنائے۔ تجارتیں قائم کیں۔ اپنے ساتھی اور مددگار پیدا کئے۔ وہ شخص جس نے زندگی کا آغاز معمولی محنت مزدوری سے کیا تھا ، اپنی آخر عمر میں اس نے یہ درجہ حاصل کیا کہ وہ اپنے علاقہ کا سب سے بڑا اور سب سے زیاوہ با اثر آدمی بن چکا تھا۔ اس نے اپنے بچوں کو وصیت کی کہ تم لوگ ہمیشہ میری راہ پر چلنا اور بچوں نے قسم کھا کر وعدہ کیا کہ وہ ایسا ہی کریں گے۔ یہ ایک امن پسند اور تعمیری مزاج رکھنے والا آدمی تھا۔ تاہم عمر کے آخری حصہ میں کچھ مفسدین نے اس کو مقدمہ بازی میں الجھا دیا۔ دیوانی اور فوجداری دونوں قسم کے مقدمات چلنے لگے۔ یہ مقدمات ابھی جاری تھے کہ باپ کا انتقال ہو گیا۔

اب بچے اس شخص کے وارث بنے، ان کو اپنے سفر کا آغاز وہاں سے ملا جہاں ان کا باپ ان سے جدا ہوا تھا۔ وہ بعد کی تاریخ کے وارث تھے نہ کہ حقیقتاً باپ کے ابتدائی اصول حیات کے۔ باپ کے لئے زندگی محنت اور دیانت داری کا نام تھی۔ مگر بیٹوں کو نظر آیا کہ زندگی نام ہے مقدمہ لڑنے اور حریفوں سے ٹکراؤ کرنے کا۔ باپ نے مثبت تعمیر میں زندگی کا راز پایا تھا، بیٹیوں کو اغیار کی تخریب میں زندگی کا راز دکھائی دینے لگا۔ باپ نے ساری عمر تعمیر و ترقی کے کاموں میں صرف کی تھی۔ بیٹوں نے اپنی ساری عمر اپنے مفروضہ دشمنوں سے لڑنے بھڑنے میں گزار دی۔ حتی کہ باپ کا اثاثہ بھی اس میں ضائع کر دیا۔ پھر بھی وہ اپنے طور پر یہی سمجھتے رہے کہ وہ باپ کے اسوہ کی تعمیل میں ایسا کر رہے ہیں ۔

ایسا ہی کچھ حال موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں کا ہے۔ اسلام کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں ہوا تو اس وقت وہ نام تھا تعلق بالله کا، فکر آخرت کا۔ رسول خدا کے نمونہ کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنے کا، اپنے آپ کو دوزختوں کا ہم نشین بنانے کا۔ جہنم سے ڈرنے اور جنت کا مشتاق ہونے کا، اللہ کی عبادت گزاری کا اور بندوں کے ساتھ انصاف اور خیر خواہی کا معاملہ کرنے کا۔ مگر اس آغاز کے بعد اسلام کی ایک دنیوی تاریخ بنی۔ یہ تاریخ چلتی رہی۔ حتی کہ اسلام ساری دنیا میں سب سے زیادہ غالب قوت بن گیا۔ یہ صورت ایک ہزار سال تک قائم رہی۔ اس کے بعد پہیہ دوسرے رخ پر چلنا شروع ہوا۔ دوسری قوموں نے نئی نئی قوتوں سے مسلح ہو کر مسلمانوں کے اوپر غلبہ حاصل کر لیا اور ان کو میدان میں پیچھے دھکیل دیا۔ اس صورت حال سے مسلمانوں کو جو جھٹکا لگا۔ اس کے رد عمل کے طور پر انیسویں صدی عیسوی میں مسلم ملکوں میں جوابی تحریکیں اٹھنا شروع ہوئیں۔ یہ تحریکیں بظاہر مختلف ناموں سے شروع ہوئیں۔ ان کے پروگرام بھی اکثر اوقات الگ الگ رہے مگر ایک بات سب میں مشترک تھی۔ تقریباً تمام تحریکیں رد عمل کی نفسیات کے تحت پیدا ہوئیں۔ ان کا مقصد کسی نہ کسی طور پر حملہ آور قوتوں کا مقابلہ کرنا تھا۔ بالفاظ دیگر، وہ " باپ " کی ابتدائی زندگی کے احوال سے متاثر ہو کر نہیں بلکہ دہ باپ کی زندگی کے آخری احوال کے اثر سے پیدا ہوئیں۔ ان کو مثبت فکر نے پیدا نہیں کیا۔ بلکہ منفی جذبات ان کے ابھرنے کا سبب بنے۔ ابتدائی

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page