Al-Risala · July 1979 · page 18

دین کا ماخذ قرآن و سنت نہ کہ تاریخ

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۱۸

دور کے مسلمانوں کے لئے اسلام کا مطلب یہ تھا کہ اپنی زندگی کو اللہ کی مرضی پر ڈھالیں تا کہ موت کے بعد آنے والی زندگی میں خدا ان کو جنتوں میں داخل کرے۔ اس کے برعکس موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے اسلام کا مطلب یہ بن گیا کہ دوسروں سے اپنے حقوق و مطالبات کے لئے لڑتے رہیں۔ ایک کا رخ اگر آسمانی چیزوں کی طرف تھا تو دوسرے کا رخ دنیوی چیزوں اور دنیوی حریفوں کی طرف ہو گیا۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اتنی معقولیت برتی کہ اس فرق کا اعتراف کرتے ہوئے انھوں نے اعلان کیا کہ ان کی تحریک ملت کے تحفظ یا اس کے دفاع کی تحریک ہے نہ کہ مطلق معنوں میں پیغمبرانہ مشن کو زندہ کرنے کی۔ تاہم بعض ایسے حوصلہ مند بھی تھے جو اس کمتر حیثیت پر قانع نہ ہوئے۔ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ وہ جس ”انقلابی“ مقصد کے لئے اٹھے ہیں وہی اسلام کا اصلی اور ابدی مقصد ہے۔ تمام انبیاء اسی لئے آئے کہ باطل طاقتوں سے لڑیں اور ان سے لڑکر اسلامی قانون کی حکومت قائم کریں۔ اس طرح مذہب ان، نئی تشریح کے خانہ میں، مذہب جنگ بن گیا۔ ذاتی اصلاح کی تڑپ نے خارجی انقلاب کی تڑپ کی صورت اختیار کرلی۔ ۔ گویا بیٹوں کے لئے ”مقدمہ بازی“، باپ کا وقتی یا اضافی عمل نہ رہا، بلکہ وہی ان کا اصل مقصد حیات قرار پایا۔ یہی وہ اصل دین بن گیا جس پر خدا کے یہاں جنت اور جہنم کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اسلام کی جدید تاریخ کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ لوگ اسلام کے لئے سرفروشی کر رہے ہیں حالاں کہ وہ اسلام سے بہت دور ہیں۔ وہ خدا کا نعرہ بلند کر رہے ہیں حالاں کہ وہ ابھی تک خدا سے متعارف ہی نہیں ہوئے۔ اسلام کے نام پر ایسی تحریکیں وجود میں آئی ہیں جنھوں نے یہ سمجھا ہے کہ وہ کسی نہ کسی مفروضہ دشمن سے ٹکراتی رہیں۔ اس ٹکراؤ کو وہ دین و ملت کا کام سمجھتی ہیں۔ کوئی بیرونی استعمار سے متصادم ہے۔ کوئی غیر مسلم اکثریت کے خلاف احتجاجی سیاست چلا رہا ہے۔ کوئی اپنے ملک کے مسلم حکمران کو اقتدار سے ہٹانے اور اس کے ساتھیوں کو گولی مارنے میں جنت کی خوشبو پارہا ہے۔ لڑائی والا دین ہر ایک کی سمجھ میں آرہا ہے۔ مگر سیدھا اور سچا دین جو خدا نے اپنے رسول کی معرفت بھیجا تھا وہ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔ مذکورہ مثال کے مطابق ، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے اپنی دینی فکر کا آغاز ”مقدمہ بازی“ کے مرحلہ سے کیا۔ وہ ”محنت اور دیانت داری“ کے مرحلہ سے اپنے فکر کا آغاز نہ کر سکے۔

اس صورت حال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ دین اختیار کرنے کے باوجود آدمی اسی اصلی چیز سے محروم رہ گیا جو دین کا حقیقی مطلوب تھا۔ اس کے نتیجہ میں دین داری ایک خارجی رسمی عمل بن گیا۔ حالاں کہ دین داری تمام تر ایک اندرونی عمل ہے۔ اب کوئی اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا البتہ دوسروں کے بارے میں گرما گرم مباحثے ہر جگہ جاری ہیں۔ اپنے قریب ایک شخص پر ظلم ہو رہا ہوگا مگر اس کی نہ اسے خبر ہوگی اور نہ اس میں اپنا حصہ ادا کرنے کی فرصت ۔ البتہ دور کے مقامات پر ہونے والے واقعات سے وہ انتہائی حد تک باخبر ہوگا تا کہ ٹرنک کال کے ذریعہ اس سے رابطہ کرے اور ہوائی جہاز پر اڑ کر فوراً وہاں پہنچے۔ ایسے کاموں سے کسی کو دل چسپی نہیں جن میں قلبی اہمیت ہے۔ البتہ وہ کام جن میں اخباری اہمیت (نیوز ویلیو) ہے، ان کے لئے سرگرمی دکھانے میں ہر ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے، کسی کو یہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ اپنے نفس کے اندر چھپی ہوئی برائیوں سے لڑے۔ البتہ باہر کی برائیوں پر بیان دینے اور تقریر کرنے میں کوئی پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ اور یہ سب کچھ نتیجہ ہے دین کا صحیح تصور نہ ہونے کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page