اسلامی جہاد کیا ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۵
تقریباً سو سال پہلے کی بات ہے، راقم الحروف نے کس مسلم اخبار میں ایک تصویر دیکھی، یہ تصویر بیت المقدس کی تھی۔ اس تصویر کے نیچے جلی حروف میں لکھا ہوا تھا:
• اہل مقدس میں ہر چالیس کروڑ مسلنوں کی جانیں قربان ہیں ؟
اس میں شک بنیں کہ مسلمانوں نے، پچھلے برسوں میں، بے شمار تعداد میں، ارضِ مقدس میں اپنی جانیں قربان کر دی ہوتے۔ مگر عملاً نتیجہ بالعمل برعکس نکلا۔ 30 سال پہلے، ارضِ مقدس کی جتنی زمین یہودیوں کے قبضہ میں تھی، آج اس کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ رقبہ پر وہ اپنا اقتدار قائم کر چکے ہیں۔ مزید حیرت یہ ہے کہ اس تیس سالہ مدت میں مسلمانوں کی تعداد ساری دنیا میں، ہم کو دُروغے بڑھ کر، کمزور ہو چکی ہے مگر اپنے "دُشمنوں" کے مقابلہ میں وہ کہیں بھی کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ تصادم کی کثرت اور تحریکوں کے ہجوم کے باوجود مسلمان کیوں ناکام ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ بہت ایک ہے: رویہ کہ جو اپنے اصل فریضہ منصوبہی کو ادا نہیں کر رہے ہیں۔
مسلمان کے ساتھ خدا کے تمام اجتماعی وعدے اس شرط پر ہیں کہ وہ دنیا میں اس اجتماعی کام کو انجام دیں جس کے لئے انھیں پر بھیجا گیا۔ اگر وہ اس کام کے لئے نا خاص کردہ خدا کی نظر میں مجرم ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ کام کیا ہے۔ یہ کہ وہ تمام انسانوں کو اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ پیغام رسانی کا کام کوئی قومی کام نہیں ہے، نہ اس کا سیاسی اور اقتصادی مفادات سے کوئی براہ راست تعلق ہے۔ یہ ایک خالص خدا کی اور اخروی کام ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو امتحان کے لئے پیدا کیا ہے۔ دنیا میں ایک وقت تک زندگی کا موقع دینے کے بعد وہ تمام انسانوں کو آخرت میں حاضر کرے گا اور وہاں ان کے کل کے مطابق ان کے لئے دائمی جنت یا دائمی جہنم کا فیصلہ کرے گا۔
خدا اگر چہ اپنے بندوں کے احوال سے خوب واقف ہے مگر اس نے اپنی اس عدالت کے لئے تو طریقہ مقرر کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر زمانہ میں خود انسانوں میں ایسے لوگ انیس جو خدا کی طرف سے لوگوں کو آنے والے یومِ الحساب سے باخبر کریں، یہ لوگ دنیا میں قوموں کو خدا کا پیغام ما پہنچائیں گے، یہی آخرت میں ان کے اوپر خدا کے گواہ نہیں گے۔ وہ آخرت کی عدالت میں کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کس نے پیغام خداوندی کو مانا اور کسی نے اس کا انکار کیا۔ ان کی گواہی کے مطابق خدا ہر ایک کے اوپر اپنا فیصلہ صادر کرے گا۔ مسلمانوں کا اصل جرم یہ ہے کہ وہ اپنی اس حیثیت کو بھول گئے ہیں۔ وہ قوموں کے اوپر خدا کے گواہ بن کر نہیں کھڑے ہو رہے ہیں۔ خدا کو اپنی سنت کے مطابق اپنی عدالت کے لئے گواہ مطلوب میں ذکر شیخِ اعظم شہداء آل عمران۔ ۔۔۷۸)۔ مگر سارا عالم اسلام اس ذمہ داری کو بھولٹا ہوا ہے، وہ اس خدائی منصب میں اپنے کو شامل نہیں کر رہا ہے۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے، بجا کہ وہ خدائی نصرتوں کے مستحق قرار پائیں۔ پچھلے برسوں میں پٹرول کی قدرتی طاقت نے بلاشبہ مسلم دنیا کو کافی سہارا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خدا دار قرار نہ اگر چہ ظاہر ہوا ہوتو تا مسلمان معالیہ صدیوں میں اپنی بے حساب نادانیوں کی وجہ سے، آج بین الاقوامی جھوٹ کی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ ہماری نام نہا انقلابی تحریکیں کسی بھی درجہ میں ہم کو بچانے والی ثابت نہیں ہو سکتی تھیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues