Al-Risala · July 1979 · page 24

اسلامی جہاد کیا ہے

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۴

China Philippines Eastern Europe Turkey Soviet Union Afghanistan Iran Pakista:

تقریباً 40 سال پہلے کی بات ہے۔ راقم الحرفوں نے کسی رسالہ میں ایک تصویر دیکھی، تصویر یہ تھی کہ تعداد کی کثرت اور تحریکوں کے ہجوم کے باوجود مسلمان کیوں ناکام ہورہے ہیں ؟ اس کی روح فرسا کیفیت میں کی تھی۔ اس تصویر کے نیچے جلی حروف میں لکھا ہوا تھا : "ارض مقدس جس پر چالیس کروڑ مسلمانوں کی جانیں قربان ہیں"

اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں نے، پچھلے برسوں میں ، بے شمار تعداد میں ارض مقدس پر اپنی جانیں قربان کر دی ہیں، مگر عملاً نتیجہ بالکل برعکس نکلا۔ ۴۰ سال پہلے ارض قدس کی جتنی زمین یہودیوں کے قبضہ میں تھی ، آج اس کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ رقبہ پر وہ اپنا اقتدار قائم کر چکے ہیں۔ مزید حیرت یہ ہے کہ اس تیس سالہ مدت میں مسلمانوں کی تعداد ساری دنیا میں ہم کروڑ سے بڑھ کر مذکور ہو چکی ہے۔ مگر اپنے "دشمنوں" کے مقابلہ میں وہ کہیں بھی کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہ کر سکے ۔

وہ یہ کہ وہ اپنے اصل فریضہ منصبی کو ادا نہیں کر رہے ہیں۔ مسلمان کے ساتھ خدا کے تمام اجتماعی وعدے اس شرط پر ہیں کہ وہ دنیا میں اُس اجتماعی کام کو انجام دیں جس کے لئے انھیں چنا گیا ہے۔ اگر وہ اس کام کے لئے نہ اٹھیں تو وہ خدا کی نظر میں مجرم ہیں ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ یہ کام کیا ہے ، یہ کہ وہ تمام انسانوں کو اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ پیغام رسانی کا یہ کام کوئی قومی کام نہیں ہے ، نہ اس کا سیاسی اور اقتصادی مفادات سے کوئی براہِ راست تعلق ہے۔ یہ ایک خالص خدائی اور اُخروی کام ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو امتحان کے لئے پیدا کیا ہے۔ دنیا میں ایک وقت تک زندگی کا موقع دینے کے بعد وہ تمام انسانوں کو آخرت میں حاضر

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page