Al-Risala · July 1979 · page 27

اسلامی تحریک کیا ہے

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۷

اور ان کی ردعمل کی نفسیات کے لئے فکری تسکین کا ذریعہ بھی۔

موجووہ زمانہ کی مسلم تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں جو تحریکیں اٹھیں وہ زیادہ تر خارجی حالات، خاص طور پر سیاسی حالات، کے رد عمل کے طور پر اٹھیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے احیاء کی کوششیں سیاسی مقابلہ آرائی کی سمت میں چل پڑیں۔ اس عملی غلطی کے ساتھ جو فکری غلطی پیش آئی اس نے معاملہ کی سنگینی کو بہت زیادہ بڑھادیا۔ دین کو وقت کے اسلوب میں بیان کرنے کی کوششوں نے بالآخر دین کی سیاسی تعبیر کا رخ اختیار کر لیا۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے انیسویں صدی کے یورپ میں صنعتی مزدوروں کے مسئلہ کو حل کرنے کی کوششوں میں بالآخر مارکسزم کی مادی تعبیر تاریخ وجود میں آئی۔ بندے اور خدا کا تعلق جو حقیقتاً ایک ملکوتی تعلق تھا، اس نے ایک قسم کے سیاسی تعلق کی صورت اختیار کر لی۔ اسلام سیاسی ہنگامہ آرائیوں کا عنوان بن گیا۔ جب کہ اسلام فی الحقیقت یہ ہے کہ بندے اور خدا کے درمیان وہ نفسیاتی تعلق قائم ہوجب کہ بندہ اپنے رب میں جینے لگے، وہ آخرت کی فضاؤں میں سانس لینے لگے۔ اس کے اندر وہ ملکوتی انسان جنم لے جو اس کو جنت کی ابدی دنیا کا شہری بنا سکے ۔

وقت کے اسلوب میں دین کو بیان کرنا جتنا ضروری ہے، وقت کے فکر میں دین کو ڈھالنا اتنا ہی غلط ہے ۔ اول الذکر تجدید دین ہے اور ثانی الذکر تحریف دین۔ ہر دور کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے۔ ہر دور میں کچھ الفاظ اور کچھ اسلوب ہوتے ہیں جن میں آدمی سوچتا ہے، جن میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ جب زمانہ بدلتا ہے تو الفاظ سے ذہن کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک لفظ جو قدیم دور میں انسان کی نفسیات کو متحرک کرتا تھا، نئے دور میں وہ لفظ اپنی یہ انقلابی قیمت کھو دیتا ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ ذہن اور الفاظ کے درمیان دوبارہ رشتہ قائم کیا جائے۔ تاہم یہ "جدت" صرف الفاظ اور اسلوب کے اعتبار سے ہوتی ہے، نہ کہ فکر کے اعتبار سے۔

اسلامی تحریک کیا ہے

اسلامی تحریک انسانی باغبانی کی تحریک ہے۔ جس طرح باغبان ایک ایک پودے پر انفرادی توجہ دے کر اس کو پورا درخت بنانے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح اسلامی تحریک بھی فرد فرد کونشانہ بناتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہر وہ شخص جو زمین پر پیدا ہوا ہے، وہ سچے معنوں میں اللہ کا بندہ بنے اور اپنے اندر وہ خصوصیات پیدا کرے جو اس کو اگلی زندگی میں جنتی دنیا کا شہری بنا سکیں۔ اسلامی تحریک کی کامیابی یہ ہے کہ خدا کی زمین پر ایسے بندے جنم لیں جو خدا میں جینے والے اور خدا میں سانس لینے والے ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد روح ( Complex-free soul ) کے مالک ہوں۔ یہ وہ انسان ہیں جو نئی پیدائش کا تجربہ کرتے ہیں۔ پہلی بار وہ اپنی ماؤں کے پیٹ سے نکلے تھے، اب دہ دوبارہ اسلام کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ یہ نئی پیدا شدہ رو میں دہ ہوتی ہیں کہ جب ان کے سامنے حق آتا ہے تو عزت کا سوال ان کے لئے قبول حق میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ وہ کھاتا کھانے والے اور بازار میں چلنے والے انسان کے ظاہری حلیہ سے گزر کر اس کے اندر چھپے ہوئے اس انسان کو دیکھ لیتے ہیں جو خدا سے رزق پا کر بولتا ہے اور خدا کی دنیا میں سیر کر کے لوگوں کو اس کے احوال سناتا ہے۔ وہ ایک معمولی انسان کے اندر چھپی ہوئی غیر معمولی عظمتوں سے باخبر ہو جاتے ہیں۔ وہ بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues

Printed page