اسلام کو سیاسی نعرہ کے طور پر استعمال کرنا
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۲۸
کہ "خدایا ہم نے تیری آواز کو پہچان لیا۔ ہم اس پر ایمان لائے۔ ہم کو معاف فرما، ہم کو اپنی رحمتوں میں داخل کرلے، خدا کی یاد سے ان کی روحیں اس طرح تر و تازہ ہو جاتی ہیں جس طرح بارش پا کر درخت نکھر اٹھتا ہے۔ جو ایمان خدا کا خوف نہ پیدا کرے وہ جھوٹا ایمان ہے۔ جنگل میں شیر دھاڑتا ہے تو درخت کے بندر اس طرح زمین پر ٹپک پڑتے ہیں جیسے خزاں کے موسم میں درخت کی پتیاں جھڑتی ہیں۔ اگر انسان پر خدا کی ہیبت اتنی بھی طاری نہ ہو جتنی بندر کو شیر کے تصور سے ہوتی ہے تو اس نے خدا کو پا لیا کیا۔
اسلامی دعوت کی کوششوں کا مرکز اصلا کوئی "اسٹیٹ" نہیں بلکہ وہ افراد ہیں جن کے لئے جنت یا جہنم کا فیصلہ ہونا ہے۔ خدا کی عدالت میں "اسٹیٹ" نہیں کھڑا کیا جائے گا بلکہ افراد کھڑے کئے جائیں گے اور ہر ایک کا الگ الگ حساب ہوگا۔ اسلام کے داعی کی سرگرمیوں کا اصل محرک یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کو اس خطرے سے بچائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی دعوت کا نشانہ اصلاح نظام نہیں، اصلاح انسان ہے۔ اس اصول کی اہمیت صرف اس لئے نہیں ہے کہ افراد ہی کسی نظام کو بناتے یا بگاڑتے ہیں، افراد سے باہر کسی نظام کا وجود نہیں۔ اس سے بڑھ کر اس کی اہمیت یہ ہے کہ زندگی کا اصل مسئلہ جنت اور جہنم کا مسئلہ ہے اور یہ بات کہ کون جنتی ہے اور کون جہنمی، اس کا فیصلہ ہر فرد کے لئے الگ الگ کیا جائے گا نہ کہ مشترکہ طور پر۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی دعوت فرد کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔ اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایک ایک انسان کو اس قابل بنائے کہ مرنے کے بعد جب وہ خدا کے سامنے پہنچے تو اس کا خدا اس کو جہنم میں نہ ڈالے بلکہ اس کے لئے جنت کا فیصلہ کرے۔ اسلام ایک مستقل فکر اور ایجابی حقیقت ہے۔ وہ خدا کی طرف سے آیا ہے جو اپنی ذات میں ازلی و ابدی ہے۔ وہ انسان کی ناقابل تغیر فطرت کا مقتضی ہے۔ وہ ایک ایسا دین ہے جو کائنات میں مسلسل طور پر اول روز سے قائم ہے۔ انسان جب اس حیثیت سے اسلام کو پاتا ہے تو وہ فرشتوں کے قافلے میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ خدا کی ابدی دنیا کا شہری بن جاتا ہے۔ وہ فانی کائنات سے گزر کر باقی رہنے والی کائنات میں داخل ہو جاتا ہے۔ جب کوئی شخص اس فوق الفطری تجربہ سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے اندر ایک نیا انسان جنم لیتا ہے۔ اب وہ خدا کے رزق سے کھاتا ہے ۔ وہ خدا کے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے ۔ وہ خدا کے پڑوس میں اپنی صبح و شام گزارنے لگتا ہے ــــــــ اسی ربانی یافت کا نام ایمان ہے۔ موجودہ زندگی میں یہ یافت آدمی کو حسیاتی معنوں میں حاصل ہوتی ہے موت کے بعد آنے والی دنیا میں وہ مادی اور حقیقی طور پر اس کو حاصل ہوگی جس کا دوسرا نام جنت ہے۔
اسلام کو سیاسی نعرہ کے طور پر استعمال کرنا
مگر اسلام جب سیاست بن جائے تو وہ آدمی کو اس حقیقی اسلام سے محروم کر دیتا ہے۔ اسلام کی دھوم کے درمیان وہی چیز غائب ہو جاتی ہے جو اسلام کا اصل مقصود تھی۔ اسلام اسی طرح دنیوی ہنگامہ آرائیوں کا عنوان بن جاتا ہے جس طرح مثال کے طور پر، سوشلزم اور کمیونزم بنے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ اس قسم کی تحریک خود اسلامی نظام کے قیام کے امکانات کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ کیوں کہ اسلامی نظام کو اسلامی افراد قائم کرتے ہیں اور، اس قسم کی تحریکیں حقیقی اسلامی افراد کی پیدائش کا دروازہ ہی بند کر دیتی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues