Essats on Truth & Reality. p. 446
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۹، صفحہ ۴۵
چند مثالیں
بیسویں صدی کے آغاز میں یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ یورپ اپنی تمام مادی ترقیوں کے باوجود ایک احساس ناکامی سے دوچار ہے۔ اس کو نظر آرہا ہے کہ اس کی سائنس اور ٹیکنالوجی نے اس کو مشینیں اور سواریاں تو دیں، مگر اس کو وہ فلسفہ حیات نہ مل سکا جو اس کو یقین کی دولت عطا کرتا۔ انگریز فلسفی برینڈلے (١٩٢٣ - ١٨٣٦) نے موجودہ صدی کے ربع اول میں کہا تھا :
" دنیا کو ایک نئے مذہب (New religion) کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک ایسا عقیدہ چاہئے جو تمام انسانی مفادات کا تعین کرے اور ضروری تناسب کے ساتھ اس کے جواز کی بنیاد ہو، اور اسی کے ساتھ وہ شعور عطا کرے، جس سے انسان اس پر اعتماد کے ساتھ قائم ہو سکے ۔ "
Essats on Truth & Reality. p. 446
اس کے بعد خود مغربی ممالک میں ایسے لوگ اٹھے جنہوں نے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ ان کے پاس خدا کی جو امانت ہے، وہ یورپ کی اس فکری کمی کو پورا کر سکتی ہے، وہ اس کو لے کر اٹھیں اور اہل عالم تک اس کو پہنچا کر اپنا خدائی فریضہ ادا کریں۔ لارڈپی۔ ایچ۔ کے۔ لو تھین (١٩٣ - ١٨٨۴) چالیس سال پہلے ہندوستان آئے تھے اور ۱۹۳۸ میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تقسیم اسناد کے جلسہ کی صدارت کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے خطبہ میں کہا تھا: " یورپ اپنے سیاسی، معاشی، تمدنی اور عائلی مسائل کا تسلی بخش حل دریافت کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ آپ حضرات کا دعویٰ ہے کہ اسلام زندگی کا مکمل دستورالعمل ہے اور اس میں اجتماعی مسائل کا بہترین حل موجود ہے۔ میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ بلاد مغرب میں جاکر وہاں کے باشندوں کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کریں ۔ " (خطبہ تقسیم اسناد)
پروفیسر منٹگمری واٹ ( - ۱۹۰۹) نے اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں مسلمانوں کی غیرت کو پکارا، پیغمبر اسلام کی سیرت پر اپنی کتاب میں انہوں نے لکھا :
" دنیا بہت تیزی سے ایک ہوتی جارہی ہے اور اس ایک دنیا میں یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ اس کے اندر اتحاد اور یکجہتی ہو۔ اس رجحان کی وجہ سے یقیناً وہ دن آئے گا جب کہ یہاں اخلاقی اصولوں کا ایک ایسا نظام ہو گا۔ جو نہ صرف عالمی جوڑ رکھتا ہوگا بلکہ فی الواقع وہ ساری دنیا میں تسلیم کیا جا چکا ہوگا۔ مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ محمد تمام نوع انسانی کے لئے ایک عملی اور اخلاقی نمونہ ہیں۔ یہ کہہ کر وہ دنیا کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ ان پر اسے قائم کر سکے۔ اب تک یہ معاملہ دنیا کی بہت کم توجہ اپنی طرف مائل کر سکاہے۔ مگر اسلام کی قوت کی وجہ سے یہ بالآخر اہمیت حاصل کرلے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا محمد کی زندگی اور تعلیمات میں سیکھنے کے قابل کچھ اصول ہیں جو مستقبل کی دنیا کو واحد اخلاقی نظام عطا کر سکیں " دنیا کو ابھی تک اس سوال کا آخری جواب نہیں دیا گیا ہے۔ مسلمانوں نے محمد کے بارے میں اپنے دعوے کی تائید میں اب تک جو کچھ کہا ہے، وہ اس سلسلہ میں بس ایک ابتدائی بیان کی حیثیت رکھتا ہے اور بہت کم غیر مسلم
‹ Previous page Next page › Contents of July 1979 All issues