Al-Risala · August 1979 · page 2

ترجمہ و تفسیر

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۲

بسم الله الرحمن الرحيم

ایک صاحب نے کہا "اب ہم اپنی طاقت کو استعمال کر کے اپنا مسئلہ حل کریں گے،" میں نے کہا کہ اس قسم کے الفاظ محض الفاظ ہیں جن کے کوئی معنی نہیں۔ کیوں کہ استعمال سے پہلے صلاحیت استعمال درکار ہوتی ہے اور وہ ہمارے اندر موجود نہیں۔ کوئی عملی منصوبہ پہلے ایک موافق زمین چاہتا ہے۔ موجودہ حالات میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں میں آپس کی لڑائی ختم ہو کر اتحاد پیدا ہو۔ جہالت کی جگہ تعلیم بڑھے۔ جذباتیت کے بدلے حقیقت پسندی آئے۔ انتشار ختم ہو کر اطاعت کا جذبہ پیدا ہو۔ بے صبری کے بجائے لوگ برداشت کرنے والے بن جائیں۔ یہ چیزیں قوم کے اندر ایک درجہ میں آجائیں۔ اس کے بعد ہی کوئی عملی منصوبہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ ضروری حد تک یہ اوصاف پیدا کئے بغیر اقدام کا منصوبہ بنانا ایسا ہی ہے جیسے پل بننے سے پہلے کار کو دوڑا دینا۔ "اس انداز میں سوچنے والے اور کتنے لوگ ہیں، انھوں نے کہا۔ میں نے کہا کہ یہی تو مسئلہ ہے۔ فی الحال ایسے لوگ ضروری مقدار سے بہت کم ہیں اس لئے ہم کو پہلی کوشش اسی کی کرنی ہے۔ پھر میں نے بے تکلفی کے انداز میں کہا "الرسالہ میں اسی مزاج کو پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مگر آپ لوگ اس کی اشاعت کو بڑھانے کے لئے تعاون نہیں کرتے۔"

آپ نے بھی کہاں کی بات کہاں جوڑدی،" انھوں نے کہا۔ مطلب یہ کہ کہاں اتنا بڑا عالمی مسئلہ اور کہاں الرسالہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہمارا یہی مزاج ہے آغاز جب بھی ہو گا چھوٹا ہو گا ۔ مگر ہم "چھوٹے آغاز سے شروع کرنا نہیں چاہتے اس لئے ہم آغاز بھی نہیں کر پاتے۔ مطالعہ قرآن :

ترجمہ و تفسیر

زیر نظر شمارہ سے ایک نیا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔ یہ قرآن کے ترجمہ و تفسیر کا سلسلہ ہے۔ یہ موجود شکل میں انشاء اللہ مسلسل جاری رہے گا اور بعد کو اصل متن کے ساتھ دو یا زیادہ جلدوں میں شائع کر دیا جائے گا۔ ترجمہ نہ پوری طرح لفظی ہے اور نہ پوری طرح با محاورہ۔ بلکہ درمیان کی ایک صورت اختیار کی گئی ہے تاکہ دونوں پہلوؤں کی رعایت شامل رہے۔

تفسیر میں حتی الامکان تفصیلات سے اجتناب کیا جائے گا۔ زیادہ تر جو چیز پیش نظر رکھی گئی ہے وہ یہ کہ قرآن کی فطری سادگی اس کی تفسیر میں باقی رہے۔ قرآن ایک طرف خدا کے جلال کا اظہار ہے اور دوسری طرف انسان کی عبدیت کا آئینہ ہے۔ تفسیر میں بس انھیں پہلوؤں کو غیر فنی انداز میں نمایاں کرنا ہمارا مقصود ہو گا اسلوب یہ رکھا گیا ہے کہ ہر صفحہ بذات خود مکمل ہو۔ ہر صفحہ کے اوپر قرآن کے کٹی ٹکڑے (پیراگراف) کا ترجمہ ہو گا جس کے آخر میں آیت نمبر درج ہو گا۔ اس کے بعد ایک لکیر کے نیچے کی سطروں میں سادہ انداز میں اس کی تشریح ہو گی۔ الرسالہ کی ہر اشاعت کے درمیانی صفحات میں تفسیر شامل ہو گی ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر شمارہ میں کم از کم صفحات تفسیر کے شامل کئے جائیں۔ تاہم اگر قارئین چاہیں گے تو اس مقدار میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

قارئین سے گزارش ہے کہ اس کو دیکھنے کے بعد اپنی آراء سے مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ اس سے استفادہ کیا جاسکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page