Al-Risala · August 1979 · page 6

وہ جنت اور جہنم کا سرٹیفکیٹ تقسیم کر رہے ہیں

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۶

وہ جنت اور جہنم کا سرٹیفکیٹ تقسیم کر رہے ہیں

لوگ طاقتور سے دبتے ہیں اور کمزوروں کے اوپر شیر بنتے ہیں،" ایک شخص نے کہا، پھر اللہ نے کمزوروں کو کیوں پیدا کیا۔ اس نے کیوں ایسے انسان پیدا کیے جن کے اوپر کتے بھونکیں اور بھیڑئے جن کو اپنی شیطانی ہوس کا شکار بنائیں۔ دوسرے شخص نے جواب دیا "کمزور اس لیے پیدا کیے گئے ہیں تاکہ خدا ان کے ذریعہ سے لوگوں کے ایمان کو جانچے۔ جو لوگ دنیا میں کمزوروں پر رحم کرتے ہیں، خدا قیامت کے دن ان پر رحم کرے گا۔ جو لوگ کمزوروں پر ظلم کرتے ہیں، خدا ان پر غضب ناک ہوگا اور ان کو دائمی عذاب میں ڈال دے گا۔ کم زور لوگ خدا کے خاص بندے ہیں۔ وہ لوگوں کو جنت اور جہنم کا سرٹیفکیٹ تقسیم کر رہے ہیں ۔ (۲۴ جنوری ۱۹۷۹)

شریر کچلے جائیں گے

مالی نے ایک باغ لگایا۔ باغ میں کچھ شیشم اور چنار جیسے درخت تھے۔ وہ اپنے موٹے تنے اور پھیلی ہوئی شاخوں کے ساتھ زمین پر اس طرح جمے ہوئے تھے کہ ہاتھی بھی ان کو اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا تھا۔ اسی کے ساتھ باغ میں کچھ پھولوں کی کیاریاں تھیں۔ یہاں مالی نے چھوٹے پودے لگا ر کھے تھے۔ ان پودوں کے تنے کمزور تھے۔ ان کی شاخیں بہت نازک تھیں ۔ دونوں قسم کے درخت بظاہر مختلف ہونے کے باوجود مالی کی اسکیم میں یکساں طور پر شامل تھے۔ وہ اپنے آپ نہیں اگ آئے تھے۔ بلکہ مالی نے ایک ایک پودے کو اپنی پسند کے تحت لگایا تھا ، بعض مصلحتوں کی بنا پر اگراس نے بھاری بھرکم درخت لگائے تھے تو بعض دوسری مصلحتوں کی خاطر اسی نے باغ کے کمزور پودوں کا انتخاب کیا تھا۔ کچھ شریر لوگ باغ کے اندر گھس آئے۔ انھوں نے مالی کو نہیں دیکھا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ ایک خالی باغ ہے اور یہاں وہ جو کچھ چاہیں کر سکتے ہیں۔ شیشم اور چنار کی قسم کے درختوں کا تو وہ کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے، اس لیے ان کو دیکھ کر وہ آگے بڑھ گئے۔ مگر پھولوں کے نرم و نازک پودوں کی بابت انھوں نے سمجھا کہ وہ ان پر قابو یافتہ ہیں۔ وہ ان کو اپنی شرارتوں کا تختہ مشق بنا سکتے ہیں۔ پودے نہ اپنا بچاؤ کر سکتے تھے اور نہ شریروں کا ہاتھ پکڑ سکتے تھے۔ انھوں نے سمجھا کہ ان کے اوپر ان کا کوئی سر پرست نہیں ہے۔ یہ شریر ان نازک پودوں کے اوپر ٹوٹ پڑے۔ انھوں نے کچھ پودوں کو جڑ سے اکھاڑا۔ کچھ کے پھول توڑ ڈالے۔ کچھ کی شاخوں اور تتیوں کو ویران کر دیا۔

وہ قہقہے لگا رہے تھے اور خوشیاں منا رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم فاتح ہیں۔ ہم نے اپنی بڑائی قائم کرلی ہے۔ اتنے میں مالی اپنے تمام آدمیوں کے ساتھ باغ میں آپہنچا۔ "تم نے جو کچھ کیا ہے میرے پودوں کے ساتھ نہیں کیا بلکہ خود میرے ساتھ کیا ہے " وہ گرج دار آواز میں بولا "میرے ہاتھ کی لگائی ہوئی کلیوں کو مسل کر تم نے میری توہین کی ہے۔ آج میں تم کو تمھاری شرارت کا مزا چکھاؤں گا۔ یہ کہہ کر اس نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ ان میں سے ایک ایک شخص کو پکڑو اور ان کا سر توڑ ڈالو۔ " انھوں نے میرے کمزوروں پر رحم نہیں کیا اس لیے آج میں بھی ان پر رحم نہیں کروں گا"، وہی شریر جو ایک لمحہ پہلے تک بہادر بنے ہوئے تھے۔ جن کے پاس الفاظ کا لامتناہی ذخیرہ موجود تھا۔ جو اپنی غلطی تسلیم کرنے کے لئے کسی قیمت پر تیار نہ تھے، اچانک

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page