Al-Risala · August 1979 · page 7

شریر کچلے جائیں گے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۹، صفحہ ۷

بالکل ڈھ پڑے اب وہ معافی مانگ رہے تھے اور اپنے جرم کا اقرار کر رہے تھے۔ مگر وہاں کوئی نہ تھا جو ان کی فریا کو سنے وہ ذلت کی مار کھاتے رہے اور اپنے کئے کی سزا بھگتتے رہے (۸ جون ۱۹۷۹)

دنیا اور آخرت کی مثال بھی ایسی ہی ہے جیسے مالی اور باغ کی مثال ۔ اللہ نے ایک بہترین دنیا بنائی۔ اس میں طرح طرح کے انسان پیدا کئے ۔ کوئی طاقت ور کوئی کمزور ۔ دونوں قسم کے انسان خدا کی تخلیق تھے۔ دونوں کو خدا نے اپنی حکمتوں اور مصلحتوں کے تحت بنایا تھا۔ ہر ایک کی جان و مال اور اس کی عزت و آبرو د قابل احترام تھی، ہر ایک خدا کا حرم تھا۔ مگر شریروں کو یہاں خدا نظر نہ آیا، وہ سمجھے کہ یہ ایک خالی باغ ہے۔ اس کا کوئی مالک اور سر پرست نہیں۔ وہ طاقتور انسانوں کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ ان کو انھوں نے چھوڑ دیا۔ وہ اپنے کبر کی تسکین اور اپنے شرارتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے کمزور انسانوں پر ٹوٹ پڑے۔ جو کمزور بھی ان کی زد میں آیا، اس کی پھلواری کو انھوں نے ویران کیا۔ اس پر ہر قسم کی بہبودگی کو اپنے لئے جائز کر لیا۔

شریر اپنے شیطانی شغلوں میں مصروف تھے۔ وہ فاتحانہ قہقہے لگا رہے تھے کہ اچانک زمین و آسمان کا پردہ پھٹا۔ کائنات کا مالک اپنے تمام جلال و جبروت کے ساتھ سامنے آگیا اس کی آواز سے تمام مخلوقات سہم اٹھیں۔ شریر اس کو دیکھتے ہی گھٹنوں کے بل گر پڑے۔ وہ رو رہے تھے اور معافی مانگ رہے تھے مگر خدا ان کے اوپر اتنا غضب ناک تھا کہ اس نے ان کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ ان میں بدنام قسم کے ڈاکو اور سرکش بھی تھے اور وہ بھی تھے جو دنیا میں مذہب کی گدیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ جو اخلاق اور انسانیت کے چیمپئن بنے ہوئے تھے۔ جو " ملک و قوم" کے ناخدا کہے جاتے تھے۔ مگر خدا سب پر یکساں غضب ناک تھا۔ کیوں کہ ہر ایک نے دنیا میں گھمنڈ کیا تھا۔ ہر ایک نے خدا کی ننھی کلیوں کو مسلا تھا۔ خدا نے حکم دیا کہ ان سب کو ایک زنجیر میں باندھو اور ان کو ابدی محرومی کے گڑھے میں دھکیل دو۔ وہ چیختے رہے اور فریاد کرتے رہے۔ مگر وہاں کوئی نہ تھا جو ان کی فریاد کو سنے۔ خدا کے فرشتوں کے ہاتھوں زیر کر کے وہ رسوائی اور ناکامی کے اس گڑھے میں پہنچا دئے گئے جو خدا نے سرکشوں اور متکبروں کے لئے پہلے سے بنا رکھی تھی ۔ کسی درخت کی پتی، اس کا پھول اور اس کا پھل درخت کا سب سے زیادہ کمزور حصہ ہوتے ہیں۔ مگر ایک شخص جب پتیوں کے حسن، پھلوں کی رنگ کاری ، اور پھولوں کی لطافت پر غور کرتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ درخت کے یہ نرم و نازک حصے اس کے مضبوط تنے اور شاخوں سے زیادہ قدرت کی توجہ کا مستحق رہے ہیں۔ یہ خدا کی خاموش دنیا کا ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ انسان سے خدا کو کیا مطلوب ہے __________ لوگ طاقتور "تنوں “ پر اپنے حسن سلوک کا ثبوت دے رہے ہیں، حالاں ان کا خدا ان سے " پھولوں" اور " پتیوں" کی سطح پر حسن سلوک کا نذرانہ مانگ رہا ہے۔ لوگ "بڑوں" کا استقبال کرکے اپنی شرافت اور انسانیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، حالاں کہ خدا جہاں ان کی شرافت اور انسانیت کو دیکھنے کا منتظر ہے وہ اس کے وہ بندے ہیں جی کو "چھوٹا" سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لوگ شہرت کے مواقع پر پیسہ دے کر فیاضی کا نائشل لے رہے ہیں۔ حالانکہ کہ کے یہاں فیاضی کا نائشل اس کو ملتا ہے جو ایسے مواقع پر پیسہ دے جہاں جیب خالی کرکے بھی شہرت حاصل نہیں ہوتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1979 All issues

Printed page